نہیں صاحب ہمیں رشک نہیں ہو رہاہے… اللہ گواہ حسد بھی نہیں … ہم رشک اور حسد میں جل بھن نہیں رہے ہیں‘ بالکل بھی نہیں رہے ہیں‘ لیکن صاحب ایک بات تو ہے… اور وہ یہ ہے کہ اگر ٹرمپ صاحب ہمارے ہمسایہ ملک کے وزیر اعظم اور فوج کے سربراہ کو بہترین شخصیات قرار دیں تو… تو پھر سوچنا تو پڑے گا… ٹرمپ صاحب کے معیارات اور ان کی ذہنی صحت کے بارے میں سوچنا پڑے گا کہ… کہ کس بنیاد پر ‘ کس معیار پر انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم اور اس ملک کے فوجی سربراہ کو بہترین شخصیات قراردیا … ہمیں یقینا کوئی اعتراض نہیں ہے…ہم اعتراض کر بھی نہیں سکتے ہیں… لیکن جو اعتراض کر سکتے ہیں اور جنہیں اعتراض ہے… ان سے پوچھ لیجئے… عام پاکستانیوں سے پوچھ لیجئے کہ وہ ان دونوں حضرات کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں… اور ٹرمپ صاحب نے ان دونوں کے بارے میں جو کچھ کہاہے‘ کیا وہ اس سے اتفاق کرتے ہیں… امریکی صدر نے شہباز شریف اور عاصم منیر کے بارے میں جو رائے قائم کی ہے… کیا وہ اس رائے سے اتفاق رکھتے ہیں… آپ کو حقیقت خود بخود معلوم ہو جائیگی… اور جب ایک بار آپ کو حقیقت معلوم ہو جائیگی تو… تو آپ بھی رشک اور حسد میں یقینا جل بھن نہیں جائیں گے… لیکن آپ بھی سوچیں گے کہ یہ کیا ہو رہا ہے… ٹرمپ صاحب کرکیا رہے ہیں‘ کہہ کیا رہے ہیں… اور یہ جناب جو کراور کہہ رہے ہیں اس کا اصل مقصد کیا ہے… ہدف کیا ہے …مانتے ہیں اور جانتے بھی کہ ہر ملک کو اپنے مفادات کا خیال رکھنے کا حق حاصل ہے… امریکہ کو بھی … لیکن صاحب پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کی ناز برداری اور انکے تعریفوں… جھوٹی تعریفوں کے پل باندھنے سے امریکہ اور اس کے صدر صاحب آخر اپنے ملک کے کن مفادات کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں ؟کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ٹرمپ صاحب کی شخصیت پر ان کی بڑھتی عمر نے غلبہ پالیا ہے… اسی لئے وہ ماضی بھولتے جارے ہیں… ماضی میں ہمارے ہمسایہ ملک کے بارے میںیہ جناب جو کچھ بھی کہتے تھے وہ یہ بھولتے جا رہے ہیں… انہیں یاد نہیں کہ پاکستان اور اس کا ڈی این اے اصل میں کیا ہے… ہمیں یقین ہے کہ بات یہی ہے‘ کچھ اور نہیں … کچھ اور نہیں ہو سکتی ہے… بالکل بھی نہیں ہو سکتی ہے ۔ ہے نا؟




