تو صاحب خبر یہ ہے کہ اپنے گیوٹرس صاحب … اجی وہیں اقوام متحدہ کے سب سے بڑے صاحب … تو ان صاحب کاکہنا ہے کہ امن اب زیادہ انتظار نہیںکر سکتا ہے… یہ با ت اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے عالمی یوم امن کے موقع پر کہی ۔ اب صاحب ہماری اس نا سمجھ ‘ سمجھ میں یہ بات سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ ہم اپنے گیوٹرس صاحب کو سمجھائیں تو کیا سمجھائیں ؟ہم بھی جانتے ہیں کہ امن انتظار … مزید انتظار نہیں کر سکتا ہے … لیکن جناب مسئلہ یہ ہے کہ اسے انتظار کون کرارہا ہے… اسے ویٹنگ روم میں کس نے بندی بنا دیا ہے ‘ جو اسے اس ویٹنگ روم سے باہر آنے نہیں دیتا ہے… بالکل بھی نہیں دیتا ہے … جس نے اسے اس کمرے میں بندی بنا دیا ہے… اس پر قابو پالیجئے …اسے درکنار کیجئے ‘ پھر دیکھئے کہ امن کو رتی بھر بھی انتظار نہیں کرنا پڑے گا… یہ جہاں بھی جائیگا ‘ لوگ پہلے سے اس کی آمد کے انتظار میں قطار در قطار کھڑا ہوں گے… اس کی آمد کے منتظر ہوں گے… لیکن ایسا تب ہی ممکن ہے جب اسے پہلے چھڑا لیا جائے ‘ اس کمرے سے باہر نکالا جائے‘ جہاں اسے یرغمال بنائے رکھا گیا ہے… کہ اس کی باز یابی تک ‘ امن کی باتیں فضول ہیں … ان کے کوئی معنی نہیں ہیں… پھر چاہے یہ باتیں اقوام متحدہ کے سب سے بڑے صاحب کریں یا کوئی اور … ہمارے نزدیک ان کی کوئی قیمت نہیں ہے… امن کو جس نے بندی بنا دیا ہے ‘ اس کیخلاف اٹھ کھڑا ہونے تک جو بھی امن کا خوب دیکھ رہا ہے… اس کی باتیں کررہا ہے وہ خود کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی دھوکہ دے رہا ہے … اور مسئلہ یہ ہے کہ یہ ایک بات… یہ ایک چھوٹی سی بات کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی ہے… دو برسوں سے نہیں آ رہی ہے۔ قیام امن کے حوالے سے پوری دنیا میں ایک ہی سچ ہے… اس کے علاوہ کوئی دوسرا سچ نہیں ہے اور… اور وہ سچ یہ ہے کہ ایک شخص نے امن کو یرغمال بنا کے رکھ دیا ہے اور…دنیا … پوری دنیا اس شخص کے سامنے چاہتے نہ چاہتے ہو ئے سجدہ ریز ہو رہی ہے… اور …اور پھر امن کا خواب بھی دیکھ رہی ہے… اس سے بڑا کوئی تضاد نہیں ہے… اس سے بڑا کوئی تضا نہیں ہو سکتا ہے… بالکل بھی نہیں ہو سکتا ہے… اگر آپ اب بھی کچھ سمجھ نہیں پا رہے ہیں تو غزہ کے بھوکے اور ننگے بچوں سے پوچھ لیجئے …وہ آپ کو سمجھائیں گے…یہ سمجھائیں گے کہ انہیں ہماری باتوں کی نہیں بلکہ زندہ رہنے کی ضرورت ہے ۔ ہے نا؟




