سرینگر/۱۹ستمبر
ایک اہم پیش رفت کے طور پر الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے جموں کشمیر میں قائم۱۲ سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی ہے۔
منسوخ شدہ جماعتوں میں وہ پارٹی بھی شامل ہے جس نے ۲۰۰۲ کے اسمبلی انتخابات میں جموں و کشمیر کی سہ فریقی تقسیم کے نعرے پر الیکشن لڑا تھا۔ اسی طرح ایک اور جماعت جسے فہرست سے ہٹایا گیا، کی قیادت پی ڈی پی،کانگریس اتحاد کی سابق حکومت کے ایک وزیر نے کی تھی، جو حوالہ کیس میں گرفتار ہوا تھا۔
فہرست میں وہ جماعت بھی شامل ہے جو ایک سابق رکن پارلیمان نے قائم کی تھی، جنہیں ۱۹۷۷ کے ریاستی انتخابات میں عوامی ایکشن کمیٹی (اے اے سی) کی حمایت حاصل تھی، جب انہوں نے جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا تھا۔
یہ فیصلہ جمعہ کو ایک باضابطہ حکم نامے کے ذریعے عوام کے سامنے لایا گیا، جسے خبر رساں ادارے کے این او نے رپورٹ کیا۔
ان جماعتوں کو گزشتہ چھ برسوں سے کسی بھی انتخاب میں حصہ نہ لینے کی بنیاد پر ای سی آئی کی فہرست سے خارج کیا گیا ہے۔
حکم نامے کے مطابق جن جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی ان میں بیک ورڈ کلاسز ڈیموکریٹک پارٹی‘ڈوگر پردیش پارٹی‘فرنٹ آف ریولوشنائزڈ کری ایٹو ایفورٹس‘جموں و کشمیر پیپلز پارٹی (سیکولر)‘کشمیر ڈویلپمنٹ فرنٹ‘نیچر مین کائنڈ فرینڈلی گلوبل پارٹی‘سیکولر پارٹی آف انڈیا‘سوشیل موومنٹ پارٹی (ہیڈ کوارٹر: جموں و کشمیر) شامل ہے۔
ان تمام جماعتوں نے مسلسل چھ برسوں میں کسی بھی الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔
جموں و کشمیر نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ کی قیادت عبدالرشید کابلی کر رہے تھے، جنہوں نے ۱۹۷۷ میں سرینگر کے عیدگاہ حلقے سے جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس وقت انہیں عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت حاصل تھی، جسے مرکزی حکومت نے ۲۰۲۵ میں ’’غیر قانونی تنظیم‘‘ قرار دیا۔
نیچر مین کائنڈ فرینڈلی گلوبل پارٹی کی قیادت بابو سنگھ کر رہے ہیں، جو پی ڈی پی،کانگریس حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں۔ انہیں ۲۰۲۲میں ایک حوالہ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔










