دوحہ، 18 ستمبر (یو این آئی) اسرائیل کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر کیے گئے فضائی حملے میں خوش قسمتی سے بچ نکلنے والے حماس کے سینئر عہدیدار نے آنکھوں دیکھا حال بتایا ہے ۔
اسرائیل نے دوحہ پر اُس وقت فضائی حملہ کر کے حماس کی سیاسی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جب وہ غزہ میں جنگ بندی کی امریکی تجویز پر غور کیلیے جمع تھے ۔ حملے سینئر عہدیدار تو خوشی قسمتی سے محفوظ رہے تاہم قطری سکیورٹی اہلکار سمیت 6 افراد شہید ہوگئے تھے ۔
حملے کے وقت حماس کے سینئر عہدیدار غازی حمد بھی اجلاس میں موجود تھے ۔ انہوں نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ سے خصوصی گفتگو میں آنکھوں دیکھا حال بتایا۔
غازی حمد کے مطابق ہم میٹنگ میں تھے جس میں مذاکراتی وفد اور کچھ مشیر موجود تھے ، جب ہم نے قطری ثالثوں سے موصول ہونے والے امریکی تجویز کا جائزہ لینا شروع کیا تو ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ہمیں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
‘ہم فوراً جائے وقوعہ سے فرار ہوئے کیونکہ ہمیں شروع سے معلوم تھا کہ یہ دھماکے اسرائیلی فضائی حملے ہیں۔ ہم غزہ میں رہ چکے ہیں اور پہلے بھی ایسے حملے کا تجربہ کرچکے ہیں۔ فضائی حملہ بہت شدید تھا، صورتحال خوفناک تھی اور راکٹ مسلسل آتے رہے ۔ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں تقریباً 12 راکٹ داغے گئے لیکن خدا کے حکم سے ہم اس جارحیت سے بچ نکلے ۔’
غازی حمد نے الجزیرہ کو بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مشرق وسطیٰ کو تبدیل کرنے کے منصوبے کا عرب ممالک کی جانب سے ردعمل ہونا چاہیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس کو جنگ بندی کے مذاکرات کے دوران تلخ تجربہ ہوا اور امریکہ ایک ایماندار ثالث کے طور پر معتبر نہیں رہا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر حماس عہدیدار نے کہا کہ وہ ہمیں خوفزدہ نہیں کرتے ، یرغمالوں کے ساتھ ہماری اقدار کے مطابق اچھا سلوک کیا جا رہا ہے اور وہ صرف اسرائیل کے اقدامات کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔










