(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
سرینگر/۱۶ستمبر
اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی ہے۔
تحقیقاتی کمیشن کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے پاس واضح شواہد ہیں کہ ۲۰۲۳ میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل بین الاقوامی قانون میں بیان کردہ نسل کشی کے پانچ میں سے چار اقدامات کا مرتکب ہوا ہے۔
اسرائیل کو نسل کشی کے جن اقدامات کا مرتکب پایا گیا ہے ان میں کسی مخصوص گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کا قتل، انھیں شدید جسمانی اور ذہنی نقصان پہنچانا، جان بوجھ کر کسی گروپ کو تباہ کرنے کیلئے حالات پیدا کرنا، اور بچوں کی پیدائش کو روکنا شامل ہے۔
رپورٹ میں نسل کشی کے ارادے کو ثابت کرنے لیے اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات اور اسرائیلی افواج کے طرز عمل کا حوالہ دیا گیا ہے۔
حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم ۶۴ہزار۹۰۵؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
غزہ کی زیادہ تر آبادی متعدد بار بے گھر ہوچکی ہے جبکہ اندازے کے مطابق، ۹۰ فیصد سے زیادہ گھر یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا انھیں نقصان پہنچا ہے۔ صحت کی سہولیات، پانی، صفائی اور حفظان صحت کے نظام تباہ ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ فوڈ سکیورٹی ماہرین اعلان کر چکے ہیں کہ غزہ شہر قحط کا شکار ہے۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’مسخ شدہ اور جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔
اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے کمیشن میں شامل تینوں ماہرین پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’حماس کی پراکسی‘ کے طور پر کام کر رہے ہیں اور انھوں نے رپورٹ کے لیے ’مکمل طور پر حماس کے جھوٹ‘ پر انحصار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے ۲۰۲۱ میں مقبوضہ فلسطینی علاقے میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔
اس کمیشن کے تین رکنی پینل کی سربراہی جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سابق سربراہ نوی پلے کر رہی ہیں۔ وہ اس سے قبل روانڈا میں ہونے والی نسل کشی پر بنے بین الاقوامی ٹریبونل کی صدر رہ چکی ہیں۔
دسمبر ۲۰۲۳ میں غزہ کے سب سے بڑے فرٹیلٹی کلینک پر حملہ کر کے بچوں کی پیدائش میں خلل ڈالا گیا۔ اس حملے میں مبینہ طور پر تقریباً ۴ہزار ایمبریو اور ایک ہزار سپرم کے نمونے اور غیر زرخیز انڈوں کو تباہ ہوئے تھے۔
جنیوا کنونشن کے تحت کسی کو بھی عمل کو نسل کشی قرار دینے کے لیے یہ ثابت کرنا بھی ضروری ہے کہ مجرم نے یہ سارے اقدامات نسل کشی کے ارادے سے کیے ہیں۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے اس مقصد کے لیے اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات کا جائزہ لیا۔ کمیشن کا لزام ہے کہ اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ، وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ نے نسل کشی کے لیے اکسایا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز کے طرز عمل سے جو واحد معقول نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ ان کا ارادہ نسل کشی کا ہی تھا۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ اس طرز عمل میں بھاری گولہ بارود کا استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں کی غیر معمولی تعداد کو جان بوجھ کر قتل کرنا اور انھیں شدید نقصان پہنچانا شامل ہے۔ مذہبی، ثقافتی اور تعلیمی مقامات پر منظم اور بڑے پیمانے پر حملے اور غزہ کا محاصرہ کر کے اس کی آبادی کو بھوکا مارنا شامل ہے۔










