واشنگٹن، 11 ستمبر (یواین آئی) اسرائیل کی جانب سے قطر میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کے بعد دنیا بھر سے مذمت کا سلسلہ جاری ہے ، ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نیتن یاہو سے سوال پوچھ لیا۔
امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان فون کال پر گرما گرمی ہوئی، صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے پوچھ لیا کہ دوحہ میں حماس پر حملہ کیا کامیاب رہا ؟
صدر ٹرمپ نے کہا کہ قطر کی سرزمین پر حماس کو نشانہ بنانے کا فیصلہ عقل مندانہ نہیں تھا۔ نیتن یاہو نے کہا ان کے پاس مختصر موقع تھا اور انہوں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔
اخبار کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان دوسری مرتبہ بھی ٹیلی فون پر رابطہ ہوا جس میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے استفسار کیا کہ کیا حملہ کامیاب تھا؟
دوسری جانب دوحہ حملے کے بعد اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ساتھ معاہدے پر آمادگی ظاہر کردی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لندن میں چیتھم ہاؤس تھنک ٹینک میں خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے کہا کہ اسرائیل ایک مکمل معاہدے ، جنگ کے خاتمے ، یرغمالیوں کی رہائی اور آگے بڑھنے کیلیے تیار ہے ۔
آئزک ہرزوگ نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ وہی ہے جو اسرائیل کرنے کیلیے تیار ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم انتظار کر رہے ہیں اور بس انتظار ہی کر رہے ہیں، ہم ہر وقت دیکھتے ہیں کہ حماس کس طرح تجاویز کو قبل کرتی ہے ۔
اسرائیلی صدر کے تبصرے قطری دارالحکومت دوحہ میں حماس کی سیاسی قیادت پر فضائی حملے کے ایک دن بعد سامنے آیا جس کی عالمی برادری کی جانب سے شدید مذمت کی جا رہی ہے ۔









