اسٹاک ہوم/۱۱ستمبر
جمہوریت پر مبنی تھنک ٹینک کی جمعرات کو جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں صحافتی آزادی پچھلے ۵برسوں میں نمایاں طور پر کم ہوئی ہے اور گزشتہ ۵۰برسوں کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘کی رپورٹ کے مطابق اسٹاک ہوم میں قائم انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس (آئیڈیا) کی رپورٹ کے مطابق افغانستان، برکینا فاسو اور میانمار (جو پہلے ہی صحافتی آزادی کے کمزور ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں) نے آزادی صحافت میں سب سے بڑی گراوٹ کا سامنا کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آزادی صحافت میں جنوبی کوریا میں چوتھی سب سے بڑی کمی دیکھنے میں آئی، جس کی وجہ حکومت اور اس کے سیاسی اتحادیوں کی جانب سے صحافیوں کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات میں اضافے اور صحافیوں کے گھروں پر چھاپوں کو قرار دیا گیا۔
آئی ڈی ای اے کے سیکریٹری جنرل کیون کاساس،زامورا نے’اے ایف پی‘کو بتایا کہ دنیا میں جمہوریت کی موجودہ حالت تشویشناک ہے ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے نصف سے زیادہ ممالک (۵۴فیصد) نے ۲۰۱۹سے۲۰۲۴کے درمیان جمہوریت کے۵کلیدی اشاریوں میں سے کم از کم ایک میں کمی درج کی۔
کاساس زامورا نے کہا کہ ہماری رپورٹ کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں صحافتی آزادی میں بہت تیزی سے کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ۲۰۱۹سے۲۰۲۴کے درمیان یہ پچھلے۵۰برسوں کی سب سے بڑی گراوٹ ہے ، ہم نے کبھی کسی کلیدی جمہوری صحت کے اشاریے میں اتنی تیز کمی نہیں دیکھی۔
صحافتی آزادی میں کمی دنیا کے۴۳ممالک میں دیکھی گئی، جن میں افریقہ کے۱۵؍اور یورپ کے۱۵ممالک بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک زہریلا امتزاج سامنے آ رہا ہے ، جس میں ایک طرف تو حکومتوں کی سخت مداخلت شامل ہے ، ان میں سے کچھ ’وبا کے دوران کیے گئے اقدامات کی باقیات ہیں‘۔
آئیڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے ’’آپ کے پاس جھوٹی معلومات کا انتہائی منفی اثر ہے ، جن میں سے کچھ واقعی گمراہ کن معلومات ہیں‘‘اور کچھ حکومتوں کی طرف سے صحافتی آزادی پر قدغن لگانے کے بہانے کے طور پر استعمال کی جا رہی ہیں۔
کاساس،زامورا نے کہا کہ تھنک ٹینک نے دنیا بھر میں روایتی میڈیا کے ارتکاز اور بہت سے ممالک میں مقامی میڈیا کے ختم ہو جانے پر بھی تشویش ظاہر کی ہے ، جو جمہوری مباحثے کو سہارا دینے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ صرف۲۰۱۹سے۲۰۲۴کے عرصے پر محیط ہے اور اس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جنوری میں وائٹ ہاؤس واپسی کے ابتدائی اثرات شامل نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لیکن گزشتہ سال کے آخر میں ہونے والے انتخابات اور۲۰۲۵کے ابتدائی چند مہینوں میں جو کچھ ہم نے دیکھا وہ کافی پریشان کن ہے ، چوں کہ امریکا میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے اثرات دنیا بھر میں پڑتے ہیں، یہ جمہوریت کیلئے عالمی سطح پر اچھا شگون نہیں ہے ۔
جمہوریت پر مبنی تھنک ٹینک کی جمعرات کو جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں صحافتی آزادی پچھلے ۵برسوں میں نمایاں طور پر کم ہوئی ہے اور گزشتہ ۵۰برسوں کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘کی رپورٹ کے مطابق اسٹاک ہوم میں قائم انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس (آئیڈیا) کی رپورٹ کے مطابق افغانستان، برکینا فاسو اور میانمار (جو پہلے ہی صحافتی آزادی کے کمزور ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں) نے آزادی صحافت میں سب سے بڑی گراوٹ کا سامنا کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آزادی صحافت میں جنوبی کوریا میں چوتھی سب سے بڑی کمی دیکھنے میں آئی، جس کی وجہ حکومت اور اس کے سیاسی اتحادیوں کی جانب سے صحافیوں کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات میں اضافے اور صحافیوں کے گھروں پر چھاپوں کو قرار دیا گیا۔
آئی ڈی ای اے کے سیکریٹری جنرل کیون کاساس،زامورا نے’اے ایف پی‘کو بتایا کہ دنیا میں جمہوریت کی موجودہ حالت تشویشناک ہے ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے نصف سے زیادہ ممالک (۵۴فیصد) نے ۲۰۱۹سے۲۰۲۴کے درمیان جمہوریت کے۵کلیدی اشاریوں میں سے کم از کم ایک میں کمی درج کی۔
کاساس زامورا نے کہا کہ ہماری رپورٹ کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں صحافتی آزادی میں بہت تیزی سے کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ۲۰۱۹سے۲۰۲۴کے درمیان یہ پچھلے۵۰برسوں کی سب سے بڑی گراوٹ ہے ، ہم نے کبھی کسی کلیدی جمہوری صحت کے اشاریے میں اتنی تیز کمی نہیں دیکھی۔
صحافتی آزادی میں کمی دنیا کے۴۳ممالک میں دیکھی گئی، جن میں افریقہ کے۱۵؍اور یورپ کے۱۵ممالک بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک زہریلا امتزاج سامنے آ رہا ہے ، جس میں ایک طرف تو حکومتوں کی سخت مداخلت شامل ہے ، ان میں سے کچھ ’وبا کے دوران کیے گئے اقدامات کی باقیات ہیں‘۔
آئیڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے ’’آپ کے پاس جھوٹی معلومات کا انتہائی منفی اثر ہے ، جن میں سے کچھ واقعی گمراہ کن معلومات ہیں‘‘اور کچھ حکومتوں کی طرف سے صحافتی آزادی پر قدغن لگانے کے بہانے کے طور پر استعمال کی جا رہی ہیں۔
کاساس،زامورا نے کہا کہ تھنک ٹینک نے دنیا بھر میں روایتی میڈیا کے ارتکاز اور بہت سے ممالک میں مقامی میڈیا کے ختم ہو جانے پر بھی تشویش ظاہر کی ہے ، جو جمہوری مباحثے کو سہارا دینے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ صرف۲۰۱۹سے۲۰۲۴کے عرصے پر محیط ہے اور اس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جنوری میں وائٹ ہاؤس واپسی کے ابتدائی اثرات شامل نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لیکن گزشتہ سال کے آخر میں ہونے والے انتخابات اور۲۰۲۵کے ابتدائی چند مہینوں میں جو کچھ ہم نے دیکھا وہ کافی پریشان کن ہے ، چوں کہ امریکا میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے اثرات دنیا بھر میں پڑتے ہیں، یہ جمہوریت کیلئے عالمی سطح پر اچھا شگون نہیں ہے ۔










