ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے ) کشمیر نے بدھ کو اننت ناگ اور پلوامہ میں مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں انجام دیں۔
یہ کارروائیاں اُس حساس کیس کے سلسلے میں کی گئیں جس کا تعلق۲۰۰۵میں حزب المجاہدین کے ڈویژنل کمانڈر امین بابا کے پاکستان فرار ہونے سے ہے ۔
ایس آئی اے کے مطابق،سابق رکن اسمبلی گل رفیقی اور ان کے قریبی ساتھیوں کی مدد سے حزب کمانڈر امین بابا کا فرار ہونا ممکن ہو پایا تھا۔
الزام ہے کہ ملزمان نے نہ صرف امین بابا کے لئے جعلی پاسپورٹ تیار کرایا بلکہ اسے رکن اسمبلی کی سرکاری گاڑی میں اننت ناگ سے اٹاری تک پہنچایا، جہاں سے وہ سرحد پار کرکے پاکستان فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔
ابتدا میں اس معاملے کی ایف آئی آر (۲۰۰۵/۹۸) پولیس اسٹیشن بجبہاڑہ میں درج ہوئی تھی، تاہم ۲۰۲۳میں کیس کو خصوصی اور جامع تحقیقات کیلئے ایس آئی اے کے سپرد کر دیا گیا۔
اب تک ایجنسی نے اس کیس میں سابق ایم ایل اے اور ان کے پرائیویٹ سکریٹری سمیت چار افراد کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں پیش کی ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش بدستور جاری ہے ۔
ایس آئی اے کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ تازہ چھاپے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایجنسی کیس کے تمام پہلوؤں کو منطقی انجام تک پہنچانے اور ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے پرعزم ہے ۔








