اورنگ آباد، 8 ستمبر (یو این آئی) مراٹھا کوٹہ تحریک کے سرکردہ کارکن منوج جارنگے پاتل، جو غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد سے اورنگ آباد کے ایک اسپتال میں ریز علاج ہیں، نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو واضح وارننگ دی ہے کہ اگر 17 ستمبر تک مراٹھا طبقہ کے لیے کنبی سرٹیفکیٹ کی تقسیم شروع نہ ہوئی تو وہ ایک بار پھر ‘‘سخت فیصلہ’’ لینے پر مجبور ہوں گے ۔
مسٹر جارنگے نے گزشتہ ہفتے ممبئی میں اپنی پانچ روزہ بھوک ہڑتال اس وقت ختم کی تھی جب حکومت نے اعلان کیا کہ وہ ایک کمیٹی تشکیل دے گی جو ایسے افراد کو کنبی سرٹیفکیٹ جاری کرے گی جو اپنے کنبی ورثے کے تاریخی ثبوت پیش کر سکیں۔ کنبی ایک روایتی کسان برادری ہے جسے مہاراشٹر میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) میں شامل کیا گیا ہے اور انہیں ملازمت و تعلیم میں ریزرویشن حاصل ہے ۔
سماجی انصاف اور خصوصی امداد کے محکمے نے حال ہی میں اس حوالے سے ایک سرکاری قرارداد (جی آر) جاری کی تھی جس میں حیدرآباد گزٹیئر کو بھی نافذ کرنے کا ذکر شامل ہے ۔ جارنگے نے کہا کہ ‘‘ہمیں امید ہے کہ ریاستی حکومت تعلقہ سطح کے دفاتر کو جی آر پر عمل درآمد کی ہدایت دے گی اور سرٹیفکیٹ تقسیم کا عمل 17 ستمبر سے پہلے شروع کر دے گی، ورنہ مجھے سخت قدم اٹھانا پڑے گا۔’’
انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے وزیر چھگن بھجبل جیسے لیڈروں کے دباؤ میں آکر کوئی فیصلہ بدلا تو 1994 کے اس جی آر کو بھی چیلنج کیا جائے گا جس کے تحت ریزرویشن دوسرے طبقات کو دیا گیا تھا۔ بھجبل بطور او بی سی لیڈر اس مطالبے کی مخالفت کر رہے ہیں کہ مراٹھا برادری کو او بی سی ریزرویشن میں شامل کیا جائے ۔
قابل ذکر ہے کہ 17 ستمبر مراٹھواڑہ آزادی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ، جو نظامِ حیدرآباد کے دور کے خاتمے اور اس خطے کے بھارت میں انضمام کی یادگار ہے ۔ جارنگے نے مزید کہا کہ کچھ مراٹھا اسکالرز جی آر کے خلاف ہیں اور بے چینی میں مبتلا ہیں لیکن برادری کو صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنی آئندہ حکمت عملی بیڑ کے نارائن گڑھ میں دسہرہ ریلی میں پیش کریں گے ۔
دوسری طرف، کارکن ونود پاٹل نے حالیہ جی آر کو ‘‘بے فائدہ’’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے برادری کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں ملے گا۔ پاٹل نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے یہ قدم جارنگے کے احتجاج کو ختم کرانے کے لیے اٹھایا تھا، نہ کہ برادری کی بھلائی کے لیے ۔








