وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو۲۰۱۴ کے سیلاب کے بعد جموں کشمیر میں اقتدار میں رہنے والوں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے وادی میں دوبارہ سیلاب نہ آنے کو یقینی بنانے کیلئے کچھ نہیں کیا۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ پچھلے ۱۱سال’ضائع‘ ہوئے اور زور دے کر کہا کہ اگر دریائے جہلم اور اس کے فلڈ چینل کی ڈریجنگ کی گئی ہوتی تو صورتحال مختلف ہوتی۔
وزیر اعلیٰ نے شہر کے سیلاب زدہ لَسجن علاقے کے دورے کے بعد صحافیوں سے کہا’’ہمیں یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ۲۰۱۴کے سیلاب کے بعد کشمیر میں کیا کیا گیا۔ جو یہاں حکومت کر رہے تھے انہوں نے کچھ نہیں کیا جس سے یہ یقینی بنایا جا سکتا کہ سیلاب دوبارہ نہ آئے‘‘۔
دریائے جہلم جمعرات کی صبح ضلع بڈگام کے شالینہ مقام پر اپنے کناروں سے باہر آگیا، جس کے نتیجے میں کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ ۲۰۱۴ کے بعد کے۱۱ سال ’ضائع‘ ہوئے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انتظامیہ کی بروقت کارروائی کی وجہ سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، کیونکہ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا’’خدا کا شکر ہے کہ انتظامیہ کی بروقت کارروائی کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن جائیداد کو نقصان پہنچا ہے، جو نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اگر ان ۱۱برسوں میں جہلم اور فلڈ چینل کی ڈریجنگ کی گئی ہوتی تو ہم اس صورتحال کا سامنا نہ کرتے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو ایک خط لکھیں گے تاکہ کشمیر میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے ایک ٹیم بھیجی جائے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’مرکز کی ایک ٹیم جموں ڈویڑن کے ۱۰ اضلاع میں نقصانات کا جائزہ لینے آ رہی ہے۔ میں وزیر داخلہ کو خط لکھوں گا کہ وہی ٹیم وادی کے اضلاع میں نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے کشمیر بھی بھیجی جائے‘‘۔
اس سے پہلے وزیر اعلیٰ نے بڈگام اور سری نگر کے نواحی علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے کے لیے متاثرہ مقامات کا دورہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کشتی کے ذریعے اندرونی دیہات تک پہنچ کر عوامی مشکلات کا براہِ راست مشاہدہ کیا اور انتظامیہ کو فوری طور پر پانی میں محصور کنبوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت دی۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ عارضی رہائش گاہوں میں صاف پانی اور دیگر لازمی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ متاثرین کو کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔ وزیر اعلیٰ کے ہمراہ نائب وزیر اعلیٰ، مشیر اور متعلقہ اراکین اسمبلی بھی موجود تھے ۔
عمر عبداللہ نے مقامی باشندوں سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات پر عمل کریں تاکہ ریسکیو اور بحالی کے کام تیزی سے آگے بڑھ سکیں۔









