دو روز تک مسلسل بارشوں‘جس نے وادی بھر میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا کر دی تھی‘ کے بعد دریائے جہلم کے پانی کی سطح جمعرات کو بالآخر گھٹنے لگی، جس سے بدھ سے صورتحال کا سامنا کر رہی آبادی اور انتظامیہ کو کچھ راحت ملی۔
تازہ ترین تفصیلات کے مطابق، جہلم کی سطحِ آب سنگم پر تقریباً ۲۸ گھنٹے تک خطرے کے نشان سے اوپر رہنے کے بعد اب اس سے نیچے آ گئی ہے۔
حکام کاکہنا ہے کہ پانی کی سطح اب بتدریج کم ہو رہی ہے اور توقع ہے کہ آج رات قریباً ۳ بجے تک یہ سیلابی اعلان کے نشان سے بھی نیچے آ جائے گی، تفصیلات میں کہا گیا ہے۔
انتظامیہ نے تاہم یہ مؤقف برقرار رکھا کہ احتیاط اب بھی ضروری ہے کیونکہ کئی نشیبی علاقے بدستور زیرِ آب ہیں اور پشتوں کی کڑی نگرانی جاری ہے۔
متاثرہ اضلاع میں ریسکیو اقدامات کے ساتھ ساتھ ریلیف اور بحالی کے کام بھی کئے جا رہے ہیں۔
جنوبی اور وسطی کشمیر کے کئی علاقوں میں جہلم کے خطرے کے نشان عبور کرنے کے بعد پانی بپھر گیا تھا، جس کے باعث کمزور علاقوں میں احتیاطی انخلاء اور ہنگامی رسپانس ٹیموں کی مکمل سرگرمی شروع کر دی گئی۔
پولیس، ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف اور فوج کی جانب سے دن بھر ریسکیو آپریشن جاری رہے، جبکہ صوبائی انتظامیہ نے عوام سے محتاط رہنے کی اپیل پر مشتمل ایڈوائزریز جاری کیں۔
جنوبی کشمیر کے اننت ناگ، کولگام اور پلوامہ میں کئی دیہات مکمل طور پر زیر آب آچکے ہیں۔ سرینگر کے نواحی علاقوں شالینہ اور زین پورہ میں باندھ ٹوٹنے کے بعد لسجن، نوگام، مہجور نگر اور پادشاہی باغ میں پانی گھروں کے اندر داخل ہو گیا۔
فلڈ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے بون اینڈ جوائنٹ اسپتال کے نزدیک شگاف کو فوری طور پر ریت کی بوریاں ڈال کر بند کرنے کی کوشش کی، تاہم مزید خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے ۔
این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، پولیس اور ریونیو محکمے کی ٹیمیں کشتیاں اور مشینری لے کر متاثرہ علاقوں میں تعینات ہیں۔ چھ مخصوص ریسکیو مراکز جیسے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول خندہ اور اسلامی پبلک اسکول کرالپورہ میں درجنوں متاثرین کو منتقل کیا گیا ہے ۔
پلوامہ کے ایک متاثرہ شہری غلام نبی وانی نے لرزتی آواز میں بتایا’’ہم نے اپنی زندگی میں ایسا خوف پہلی بار محسوس کیا ہے ۔ راتوں کو جاگتے ہیں، بچوں کو محفوظ جگہ لے جانا سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے ‘‘۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایندھن، ایل پی جی، ادویات اور اشیائے خوردنی وافر مقدار میں دستیاب ہیں اور کہیں سے بھی قلت کی اطلاع نہیں ملی۔ ایمرجنسی ہیلپ لائن نمبرز جاری کر دیے گئے ہیں۔ تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ اور سڑکوں کی بندش نے مشکلات میں اضافہ کیا ہے ۔
ماہر ماحولیات کے مطابق۲۰۱۴کے بعد بھی ڈریجنگ اور فلڈ مینجمنٹ کے وعدے پورے نہ ہونے سے وادی آج پھر اسی المیہ کے دہانے پر ہے ۔ قدرت کو الزام دینا آسان ہے مگر اصل ناکامی انتظامی منصوبہ بندی میں ہے ۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارش میں کمی کے آثار ہیں اور اگر یہ سلسلہ برقرار رہا تو پانی کی سطح اگلے ایک دن میں نیچے آ سکتی ہے ۔ تاہم حکام نے متنبہ کیا ہے کہ آئندہ۲۴گھنٹے نہایت نازک ہیں اور عوام کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنا چاہیے ۔
واضح رہے کہ ستمبر ۲۰۱۴میں وادی کشمیر ایک صدی کے سب سے بدترین سیلاب کا شکار ہوئی تھی۔ دریائے جہلم نے اُس وقت سرینگر کے بیشتر حصے ڈبو دیے ، جس میں پانچ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق۳۰۰سے زیادہ جانیں ضائع ہوئیں۔ تجارت، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کو ہزاروں کروڑ کا نقصان پہنچا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کی صورتحال۲۰۱۴سے قدرے مختلف ضرور ہے کیونکہ انتظامیہ نے ریسکیو ڈھانچے اور ابتدائی وارننگ سسٹم میں بہتری لائی ہے ، تاہم ڈریجنگ، نالوں کی صفائی اور ویٹ لینڈز پر قبضے ختم نہ ہونے کی وجہ سے خطرہ ہر سال بڑھ رہا ہے ۔
ایک بزرگ شہری محمد مقبول ڈار کا کہنا ہے کہ ۲۰۱۴کی تباہی کو آج بھی لوگ بھول نہیں پائے ہیں۔ اگر حکومت نے سنجیدگی سے اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں بھی بار بار اسی خوف میں جئیں گی۔
ادھر صوبائی کمشنر کشمیر انشول گرگ کا کہنا ہے کہ بڈگام کے زونی پورہ علاقے میں دریائے جہلم کے باندھ میں درارڈ ہونے سے قبل ہی قریب۹ہزار لوگوں کو احتیاطی طور پر منتقل کیا گیا تھا تاکہ کوئی جانی نقصان نہ ہو۔
گرگ نے کہا کہ وادی میں موسم میں بہتری واقع ہو رہی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں تمام ضروری خدمات بحال ہیں لہذا لوگوں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
صوبائی کمشنر نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دینے کے دوران کیا۔
گرگ نے کہا’’آج صبح بڈگام کے زونی پورہ علاقے میں دریائے جہلم کے باندھ میں شگاف ہونے سے بڈگام کے کچھ علاقے زیر آب آگئے لیکن ہم نے گذشتہ رات ہی قریب۹ہزار لوگوں کو منتقل کیا تھا تاکہ کوئی جانی نقصان نہ ہو‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’موسم بہتر ہو رہا ہے ، جنوبی کشمیر میں بھی موسم میں بہتری واقع ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سنگم اور رام منشی باغ میں بھی دریائے جہلم میں پانی کی سطح میں کمی واقع ہو رہی ہے تاہم نشیبی علاقوں جیسے لسجن میں پولیس، ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات ہے ‘‘۔
گرگ نے کہا کہ ایک خاص علاقے میں مسئلہ پیدا ہوا ہے اور آبپاشی اور فلڈ کنٹرول محکمے کی ٹیم وہاں موجود ہے جوں ہی پانی کی سطح کم ہوگی وہ اپنا کام شروع کریں گے ۔
صوبائی کمشنر نے کہا’’بڈگام کے۶گائوں میں لوگوں کو منتقل کیا گیا ہے باقی جو سری نگر کے علاقے ہیں وہاں لوگوں کو احتیاطی طور پر یہ صلاح دی جا رہی ہے کہ وہ نشیبی علاقوں میں جانے سے گریز کریں‘‘۔ان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں تمام ضروری خدمات بحال ہیں لوگوں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
گرگ نے کہا کہ بجلی، ٹیلی کام، ہیلتھ سروسز وغیر اچھی طرح سے چل رہی ہیں۔صوبائی کمشنر نے کہا کہ انتظامیہ کو لوگوں کا پورا تعاون مل رہا ہے ۔انہوں نے لوگوں سے ایڈوائزریز پر عمل کرنے کی اپیل کی










