اب صاحب ایسا بھی نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے کہ چین کے شہر تیانجن میں ایس او سی کے اجلاس … سربراہی اجلاس میں جو کچھ بھی ہوا ہمیں اس کی پل پل کی خبر تھی… نہیں صاحب ہم ایسا دعویٰ نہیں کر سکتے ہیں… کریں گے تویہ مبالغہ آرائی ہو گی اور… اور کچھ نہیں ہو گا… لیکن… لیکن جناب جو ایک بات سچ ہے اور سو فیصد صحیح بھی ‘ وہ یہ ہے کہ… کہ یہ جو تصویر ہوتی ہے وہ ایک ہزار تحریری الفاظ سے بھی زیادہ طاقتور ہو تی ہے اور… اور ہم حلفاًبیان کرتے ہیں کہ … کہ یہ سچ ہے اور سو فیصد سچ ہے ۔ سربراہی اجلاس کی ایک تصویر ہماری نظروں سے بھی گزری جس میں ہم یہ دیکھ رہے ہیں پاکستان کا وزیر اعظم‘ شہباز شریف کھڑا ہے… بالکل ایک سنتری کی طرح کھڑا ہے اوراس کے آگے سے دو لیڈر… دو بڑے لیڈر باتیں کرتے ہو ئے ‘ مسکراہتے ہو ئے گزر رہے ہیں… کچھ اس طرح گزر رہے ہیں کہ جیسے وہاں سچ میں کسی اور ملک کا حکمران نہیں بلکہ ان کی حفاظت یا ان کے احترام میں کھڑا ایک سنتری ہو۔یہ دو لیڈر وزیرا عظم نریندرا مودی اور روس کے صدر دلاد میر پوتن تھے ۔یقین کریں ہم پاکستان کے وزیرا عظم کی تحقیر کررہے ہیں اور نہ تزلیل ‘ انہیں اسے کم تر بھی نہیں سمجھ رہے ہیں… لیکن صاحب لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ… کہ دنیا کو پاکستان کو اپنی ضرورت کے مطابق ضرورت پڑتی ہے… اور جب یہ ضرورت پوری ہوتی ہے تو… تو اسے استعمال کرکے پھینک دیا جاتا ہے… امریکی صدر کو اس وقت پاکستان کی ضرورت ہے… شاید مودی جی کو چڑانے کیلئے اسے اس کی ضرورت ہے … اور وہ اپنی اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے پاکستان کو استعمال کررہا ہے… جونہی یہ ضرورت پوری ہو جائیگی تو… تو امریکی ترجیحات میں پاکستان کا کہیں نام و نشان نہیں ہو گا… اور اس لئے نہیں ہو گا کیونکہ اس ملک نے اپنے قیام سے لے کر آج تک کسی ملک… کسی بھی ملک کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات استوار نہیں کئے… پاکستان اُن ممالک کے پیچھے بھاگتا آیا ہے… دم ہلاتا آیا ہے جو بھارت مخالف ہوں … یہی اس ملک کی خارجہ پالیسی کا خاصا رہا ہے۔ہمیں کوئی اعتراض نہیں… لیکن… لیکن ایک بات ضرور ہے کہ… کہ جس تیزی سے ہندوستان اور چین قریب آ رہے ہیں … اسی تیزی سے پاکستان کی نیندیں بھی اڑ رہیں ہوں گی اور… اور اس لئے اُڑ رہی ہوں گی کیونکہ ایک دن وہ بھی آئیگا جب یہ حقیقت اس کے سامنے کھل جائیگی کہ…کہ چین بھی اسے صرف اپنی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ضروری سمجھ رہا تھا۔یہ اس کی اسٹریٹجی تھی … اس کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات نہیں تھے… بالکل بھی نہیں تھے۔ ہے نا؟




