نئی دہلی، 25 اگست (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور فجی کے درمیان تعلقات کو باہمی اعتماد اور احترام کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے فجی کے صحت نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اس کی راجدھانی سُوا میں 100 بستروں والا سپر اسپیشلٹی ہسپتال بنانے ، ڈائیلاسس یونٹ قائم کرنے ، ایمبولینس بھیجنے اور عوامی ادویات کے مراکز کھولنے کا اعلان کیا ہے تاکہ وہاں کے عوام کو سستی اور معیاری ادویات دستیاب ہو سکیں۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ دونوں ممالک نے دفاع اور سلامتی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے ایک ایکشن پلان تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی پوری انسانیت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ۔ کھیلوں کے شعبے میں تعاون کو بڑھاتے ہوئے اب ہندوستانی کوچ فجی کرکٹ ٹیم کو تربیت دیں گے ۔
وزیراعظم نے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحت مند قوم ہی خوشحال قوم ہو سکتی ہے ، اس لیے ہندوستان نے فجی کے ساتھ صحت کے شعبے میں تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا، ‘ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ سُوا میں 100 بستروں والا سپر اسپیشلٹی ہسپتال بنایا جائے گا، ڈائیلسس یونٹ اور ایمبولینس فراہم کی جائیں گی اور عوامی ادویات کے مراکز قائم کیے جائیں گے ، تاکہ ہر گھر تک سستی اور اعلی معیار کی ادویات پہنچیں۔’
مسٹر مودی نے کہا کہ فجی کی بحری سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے ہندوستان تربیت اور آلات فراہم کرے گا۔ دونوں ممالک سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پروٹیکشن کے شعبوں میں اپنے تجربات شیئر کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہندوستان سے فجی بھیجے گئے لوبیا کے بیج فجی کی زمین میں بہترین طریقے سے نشوونما پا رہے ہیں۔ ہندوستان 12 ایگری ڈرونز اور دو موبائل مٹی ٹیسٹنگ لیبارٹریاں بھی فراہم کرے گا۔ ہندوستانی گھی کو فجی میں تسلیم کرنے پر ہندوستان نے فجی حکومت کا شکریہ ادا کیا مسٹر مودی نے کہا کہ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی پوری انسانیت کے لیے بڑا چیلنج ہے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون اور حمایت کے لیے انہوں نے وزیراعظم رَبُکا اور فجی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ 2014 میں فجی کے اپنے سفر کے دوران انہوں نے فورم فار انڈیا پیسفک آئی لینڈ کوآپریشن (ایف آئی پی آئی سی) کی شروعات کی تھی، جس سے نہ صرف ہندوستان۔فجی تعلقات بلکہ پورے بحر الکاہل خطے کے ساتھ تعلقات کو نئی قوت ملی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان اور فجی کے درمیان گہرے دوستانہ روابط ہیں انیسویں صدی میں ہندوستان سے فجی گئے ساٹھ ہزار سے زائد گرمیٹیہ بھائیوں نے اپنی محنت اورجدوجہد سے فجی کی خوشحالی میں حصہ لیا ۔ انہوں نے فجی کی سماجی اور ثقافتی تنوع میں نئے رنگ بھردیے اور فجی کے اتحاد اور سالمیت کو مستحکم کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس کے باوجود یہ لوگ اپنی جڑوں سے وابستہ رہے اور اپنی ثقافت کو برقرار رکھا۔ فجی کی رامائن منڈلی کی روایت اس کی زندہ مثال ہے ۔ وزیراعظم رَمبُکا کی جانب سے ‘گرمیٹ ڈے ’ کے اعلان کا انہوں نے خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ ہماری مشترکہ تاریخ کا احترام اور گزشتہ نسلوں کے تئیں خراج عقیدت ہے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک نے زبان اور ثقافت کے شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ فجی یونیورسٹی میں ہندی اور سنسکرت کی تعلیم کے لیے ہندوستانی اساتذہ بھیجے جائیں گے اور فجی کے پنڈت ہندوستان آ کر تربیت حاصل کریں گے اور گیتا مہوتسو میں حصہ لیں گے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی فجی کے لیے بڑا خطرہ ہے ، اس حوالے سے دونوں ممالک شمسی توانائی سمیت قابل تجدید توانائی میں مل کر کام کر رہے ہیں۔ وہ بین الاقوامی شمسی اتحاد،قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے بنیادی ڈھانچے سے متعلق اتحاد اور حیاتیاتی ایندھن سے متعلق عالمی اتحادمیں ساتھ ہیں۔ اب فجی کی آفات سے نمٹنے کی صلاحیتوں کے اضافے میں بھی تعاون کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے فجی کے ہند۔ بحر الکاہل پہل میں شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا، ‘ہم فجی کوبحر الکاہل جزائر کے ساتھ تعاون میں ایک ہب کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ہم آزاد، کھلے ، سب کی شمولیت والے ، محفوظ اور خوشحال ہند۔ بحر الکاہل کی حمایت کرتے ہیں۔’
مسٹرمودی نے کہا کہ ہندوستان اور فجی کے درمیان اگرچہ وسیع سمندر ہیں، لیکن ہماری خواہشات ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔ ہم عالمی خطۂ جنوب کی ترقی کے سفر میں ساتھ ہیں اور ایسے عالمی نظام کی تعمیر میں شراکت دار ہیں جہاں جنوبی ممالک کی آزادی، سوچ اور شناخت کا احترام ہو۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اور کسی بھی ملک کو پیچھے نہیں چھوڑنا چاہیے ۔










