سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے۲۰۲۳میں شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں ایک کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کے سلسلے میں جموں کشمیر پولیس کے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمیت چھ اہلکاروں کو گرفتار کیا ہے ۔
حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی عدالت عظمیٰ کی ہدایت پر سی بی آئی کی طرف سے ایک ایف آئی آر درج کرنے کے تقریباً چار ہفتے بعد انجام دی گئی۔
حکام نے کہا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر میں مجرمانہ سازش، قتل کی کوشش،خطرناک ہتھیاروں یا ذرائع سے شدید چوٹ پہنچانے اور تین دن سے زیادہ قید میں رکھنے کے الزامات شامل ہیں۔
ایک سینئر عہدیدار نے بتایا’’تمام چھ پولیس اہلکاروں کو سی بی آئی کی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے گرفتار کیا ہے ‘‘۔
عہدیدار نے کہا’’ان چھ افراد کو صبح کو بلایا گیا اور باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا، انہیں سری نگر ضلع کے ایک پولیس اسٹیشن میں بند رکھا گیا ہے ‘‘۔
اس خصوصی تفتیشی ٹیم کی سربراہی سی بی آئی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سبھاش چندر کنڈو کر رہے ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے اپنی ہدایات میں۲۱جولائی کو کیس کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دی تھی اور اسے یہ یقینی بنانے کا حکم دیا تھا کہ متاثرہ پولیس کانسٹیبل کی حراست میں تشدد کے لیے ذمہ دار پائے جانے والے پولیس اہلکاروں کو ۲۲جولائی سے ’فوری طور پر اور ایک ماہ کی مدت تک‘گرفتار کیا جائے ۔
مزید برآں، عدالت عظمیٰ نے سی بی آئی کو ایف آئی آر کے اندراج کی تاریخ سے تحقیقات مکمل کرنے کیلئے ۹۰دنوں کی ڈیڈ لائن دی تھی۔
متاثرہ کانسٹیبل خورشید چوہان، جو اس وقت ڈسٹرکٹ پولیس ہیڈکوارٹر، بارہمولہ میں تعینات تھے ، کو پولیس نے۲۰فروری۲۰۲۳کو ایس ایس پی کپوارہ کے دفتر میں منشیات کے ایک معاملے کی انکوائری کے سلسلے میں رپورٹ کرنے کے لیے طلب کیا تھا۔ تاہم،چوہان کو مبینہ طور پر قانونی منظوری کے بغیر حراست میں لیا گیا اور مسلسل چھ دن تک حراست میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
چوہان کی چوٹوں کی شدت کی وجہ سے انہیں۲۶ فروری۲۰۲۳کو شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ سرینگر میں داخل کرایا گیا۔








