نئی دہلی، 21 اگست (یو این آئی ) بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کا دورہ کرنے والے ملک کے پہلے خلاباز شوبھانشو شکلا نے Axiom-4 مشن کے اپنے تجربے کو ‘ناقابل یقین’ قرار دیتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ‘ہندوستان آج بھی خلا سے سارے جہاں سے اچھا دکھتا ہے ۔یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں فضائیہ کے گروپ کیپٹن شوبھانشو شکلا نے کہا کہ وہ خلا میں سب سے زیادہ گھر کا پکا ہوا کھانا ‘مس’ کیا۔ انہوں نے ملک کے بچوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ اپنے آپ پر یقین رکھیں کہ وہ بھی خلا میں جا سکتے ہیں۔خلائی سفر کے اپنے تجربے کو شیئر کرتے ہوئے مسٹر شکلا نے کہا کہ یہ واقعی ناقابل یقین تھا۔ تربیت کے دوران آپ خود کو تیار کرتے ہیں، لیکن اصل تجربہ مختلف ہوتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت ہی کامیاب مشن تھا اور تمام ہدف حاصل کر لیے گئے ۔فضائیہ کے ٹیسٹ پائلٹ شکلا نے اپنے 18 دن کے قیام کے دوران خلا میں سات طرح کے تجربات کئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران انہیں بہت کچھ جاننے اور سیکھنے کو ملا جو ملک کے گگنیان مشن کے لئے اہم ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ خلا میں جانے کے بعد وہ پہلے تین چار دن تک اچھا محسوس نہیں کر رہے تھے لیکن اس کے بعد وہ نارمل محسوس کرنے لگے ۔ تیسرے دن آئی ایس ایس پر پہلے سے موجود ناسا کا ایک خلاباز ان کے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ خلا سے ہندوستان کیسا نظر آتا ہے ۔ ناسا کے خلاباز نے مسٹر شکلا کو آئی ایس ایس میں بنی ایک خصوصی کھڑکی سے ہندوستا ن کو دکھایا۔
ہندوستان کے گگنیان مشن کے ممکنہ عملے کے ارکان میں سے ایک مسٹر شکلا نے بتایا کہ اس وقت زمین پر رات تھی۔ پہلے جنوب میں بحر ہند پر مکمل اندھیرا چھایا ہوا تھا اور پھر اچانک ہندوستان نظر آیا جو روشن تھا۔ یہ کافی حیرت انگیز تھا۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد میں نے کئی بار ہندوستان کو دیکھا لیکن پہلا نظارہ ان کے دل کو چھو گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ہندوستان خلا سے سارے جہاں سے اچھا دکھتاہے ۔
ایک سوال کے جواب میں مسٹر شکلا نے کہا کہ انہوں نے خلا میں ہندوستانی کھانے کو سب سے زیادہ‘ مس’ کیا۔ انہوں نے کہا،ہمیں مزید ہندوستانی کھانے کو خلا میں لے جانے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔انہوں نے بتایا کہ خلا میں بھوک کم لگتی ہے لیکن گھر کے کھانے کی خواہش زیادہ ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حلوہ کو اپنے ساتھ آئی ایس ایس لے کر گئے تھے ۔
انہوں نے بتایا کہ عام طور پر وہ اپنے کھانے کے تعلق سے محتاط رہتے ہیں کیونکہ وہ فٹنس پر توجہ دیتے ہیں۔ گھر پہنچ کر انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ ہر قسم کا کھانا کھانے کے لیے تیار ہیں ۔ اس پر ان کی اہلیہ نے کہا کہ خلا میں جانے سے کم از کم اتنا فائدہ تو ہوا ہے ۔
بچوں کے لیے ایک پیغام میں مسٹر شکلا نے کہا کہ اگر میں یہ کر سکتا ہوں تو آپ بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 41 سال قبل جب راکیش شرما خلا میں گئے تھے تو اس کے فوراً بعد کوئی اور مشن نہیں تھا۔ لیکن آج ہمارے پاس بہت سارے مواقع ہیں۔ اس کے بعد گگنیان مشن ہے اور ہندوستان نے سال 2040 تک اپنے خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کا ہدف مقرر کیا ہے ۔










