نئی دہلی، 21 اگست (یو این آئی ) پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے جمعرات کو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کو حکومت کے لیے بہت سود مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیشن حکمراں جماعت کے لیے تو کامیاب رہا ہے لیکن اپوزیشن کے لیے مایوس کن رہا۔لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہونے کے بعد مسٹر رجیجو نے یہاں پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اپوزیشن نے اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پورے مانسون اجلاس کے دوران جان بوجھ کر ایوان میں رکاوٹیں ڈالیں لیکن حکومت نے اپنا کام پوراکیا اور فہرست میں شامل تمام بلوں کو منظور کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو بہت زیادہ موقع دینے کی کوشش کی گئی اور حکومت نے ایوان کی کارروائی جاری رکھنے اور تمام بلوں پر بحث کرنے کی مسلسل کوشش کی لیکن اپوزیشن اپنی ضد پر ڈٹی رہی جس کی وجہ سے اسے نقصان اٹھانا پڑا ۔
انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ خلاباز شوبھانشو شکلا جیسے ملک کے اس ہیرو پر بحث کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اپوزیشن نے اس ہیرو کا خیرمقدم تک نہیں کیا، حالانکہ حکومت نے انہیں اپنی سطح پر مبارکباد دی اور مسٹر شکلا سے اظہار تشکر بھی کیا۔ وہ خود وزیر اعظم نریندر مودی سے ملے اور مسٹر مودی نے ان کا استقبال کیا۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ اس اجلاس کے دوران آئین ترمیمی بل اور دو دیگر اہم بل لائے گئے لیکن اپوزیشن جماعتوں نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے اسے حکومت کا انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بل میں یہ شق رکھی گئی ہے کہ جو بھی کرپشن کرے گا وہ جیل جائے گا اور اپنی کرسی بھی کھوئے گا، بے شک وہ وزیراعظم ہو، وزیراعلیٰ یا کوئی بھی وزیر، اگر اس نے کرپشن کی تو اسے سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد پہلی بار اتنا اہم، غیر معمولی اور انقلابی بل لایا گیا ہے ۔ یہ ایک صاف ستھرا بل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی کرپشن کرے گا تو اسے جیل کی سزا دی جائے گی لیکن اپوزیشن جماعتیں اس بل کے حوالے سے پورے ملک کو گمراہ کر رہی ہیں۔مسٹر رجیجو نے کہا اپوزیشن کو حکومت کی مخالفت کرنی چاہئے لیکن اپوزیشن کا مطلب پارلیمنٹ کی املاک کو نقصان پہنچانا نہیں ہے ، اس کا مطلب جمہوریت کو نقصان پہنچانا نہیں ہے ، بلکہ اپوزیشن کو جمہوری طریقے سے کرنا چاہئے ، اپوزیشن کا مطلب الیکشن کمیشن جیسے جمہوری اداروں کو گالی دینا نہیں ہے اور اپوزیشن کے اس رویہ کو دیکھتے ہوئے ، حکومت نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں اور بل پاس کرنے کی عوامی ذمہ داری پوری کی ہے ۔










