نئی دہلی، 29 جولائی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے بدھ کو اینیمیشن فلم مہا پربھو جگن ناتھ کی ریلیز کو روکنے کا مطالبہ کرنے والی عرضیوں کو مسترد کر دیا جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس آر مہادیون کی بنچ نے اس دلیل کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ بھگوان جگن ناتھ کو اینیمیشن (کارٹون) کے طور پر پیش کرنا قابلِ اعتراض ہے بنچ نے زبانی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ لوگوں کے جذبات مجروح ہونے کی وجہ سے فلموں پر روک لگائی جانے لگی، تو رامائن اور مہابھارت پر مبنی فن پارے اور تخلیقات بھی نہیں بنائی جا سکیں گی۔
جسٹس بی وی ناگرتنا نے کہا کہ عدالتیں صرف اس لیے تخلیقی آزادی پر پابندی نہیں لگا سکتیں کیونکہ کچھ لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے نقطہٴ نظر کا مطلب ہندو دیوی دیوتاؤں اور رامائن و مہابھارت کی تمام تصاویر اور نقاشیوں پر پابندی لگانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ادب، ٹیلی ویژن، مجسمہ سازی اور اینیمیشن میں تخلیق کاری موجود ہے اور انفرادی حساسیت کی بنیاد پر فنکاروں کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔ جسٹس آر مہادیون نے یہ بھی توجہ دلائی کہ فلم کو سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی) نے منظوری دی ہے۔
عدالت نے اپنے 17 جولائی کے اس حکم میں ترمیم کرنے سے صاف انکار کر دیا، جس میں پروڈیوسروں کو پوری میں بھگوان جگن ناتھ کی رتھ یاترا مکمل ہونے کے بعد 28 جولائی کو فلم ریلیز کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔










