نئی دہلی، 14 ستمبر (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی 17 ستمبر کو یہاں کے یشوبھومی میں سیمی کون انڈیا 2026 کے پانچویں ایڈیشن کا افتتاح کریں گے۔
تین روزہ اس پروگرام میں ملک اور دنیا کی اہم سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس کمپنیاں، پالیسی ساز، سرمایہ کار، محققین اور اسٹارٹ اپس حصہ لیں گے۔ سرکاری بیان میں پیر کے روز یہ اطلاع دی گئی۔ یہ پروگرام 17 سے 19 ستمبر تک منعقد کیا جائے گا۔ اس میں 600 سے زائد نمائش کنندگان شامل ہوں گے، جن میں تقریباً 300 غیر ملکی کمپنیاں ہیں۔ پروگرام میں 150 سے زائد مقررین اور 40 سے زیادہ ممالک کے وفود بھی حصہ لیں گے۔ اس کا انعقاد انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (آئی ایس ایم)، وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر آلات اور مواد بین الاقوامی (سیمی) مل کر کر رہے ہیں۔
پروگرام کا تھیم ‘سلیکون سے سسٹم تک: ایکو سسٹم کی تعمیر’ رکھا گیا ہے۔ نمائش میں سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو دکھایا جائے گا۔ اس میں سیمی کنڈکٹر بنانے میں استعمال ہونے والے مواد اور اس کی تیاری سے لے کر ایڈوانسڈ پیکیجنگ، چپ ڈیزائن، الیکٹرانکس اور سسٹم تک کی ٹیکنالوجی شامل ہوگی۔ پروگرام میں چھ ممالک اور 12 ریاستوں کے خصوصی پویلین ہوں گے۔ اس کے علاوہ اسٹارٹ اپس، نئی ٹیکنالوجی، طلباء اور تکنیکی عملے کی ترقی کے لیے بھی الگ پلیٹ فارمز بنائے جائیں گے۔
پروگرام میں اے ایس ایم ایل، اپلائیڈ مٹیریلز، انفینیون، جیبل، آئی بی ایم ریسرچ، این ایکس پی، ٹاٹا الیکٹرانکس، مائیکران، لیم ریسرچ، ایڈوانٹسٹ اور ٹوکیو الیکٹران جیسی کمپنیوں کے شامل ہونے کی امید ہے۔ سیمی کون انڈیا 2026 ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب ہندوستان بڑھتی ہوئی عالمی مانگ اور متنوع نیز مضبوط سپلائی چینز کی ضرورت کے درمیان ملک میں سیمی کنڈکٹر کا اپنا ایکو سسٹم تیار کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔
حکومت نے بتایا کہ سیمی کون انڈیا پروگرام کے تحت سیمی کنڈکٹر سے جڑے 12 منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ ان میں سے پہلے مرحلے، سیمی کون 1.0 کے تحت منظور کیے گئے تین منصوبوں میں تجارتی پیداوار شروع ہو چکی ہے۔ مرکزی کابینہ نے ایکو سسٹم کی ترقی میں تیزی لانے کے لیے سیمی کون 2.0 کو بھی منظوری دی ہے۔ سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کے شعبے میں 400 سے زائد تعلیمی اداروں اور 105 اسٹارٹ اپس کو الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے) ٹولز فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ ڈیزائن لنکڈ انسینٹیو (ڈی ایل آئی) اسکیم کے تحت 24 اسٹارٹ اپس کو منظوری دی گئی ہے۔
حکومت کے مطابق، ملک میں سیمی کنڈکٹر کی مانگ فی الحال تقریباً 50 ارب ڈالر ہے، جس کا 2030ء تک بڑھ کر تقریباً 103 ارب ڈالر ہونے کا تخمینہ ہے۔ وہیں، عالمی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ کے بھی 2030ء تک 2,000 ارب ڈالر یعنی دو لاکھ کروڑ ڈالر سے زائد ہونے کی امید ہے۔ سیمی کون انڈیا 2026 سے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی شراکت داری اور سپلائی چین سے جڑے تعلقات کو فروغ ملنے کی امید ہے۔ ہندوستان سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے خود کو دنیا کے ایک قابلِ اعتماد مرکز کے طور پر مضبوط کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ یواین آئی ایف اے







