وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ہندوستان اور چین کے درمیان مستحکم، قابل اعتماد اور تعمیری تعلقات علاقائی اور عالمی امن اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کریں گے ۔
ہندوستان کے دورے پر آئے ہوئے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے منگل کی شام مسٹر مودی سے ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد مودی نے کہا کہ گزشتہ سال کازان میں صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی ملاقات کے بعد سے ہندوستان اور چین کے تعلقات نے ایک دوسرے کے مفادات اور حساسیت کے احترام کے ساتھ مسلسل ترقی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس ماہ کے آخر میں چین کے دورے کے دوران شی سے ملاقات کے منتظر ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں وزیر اعظم نے کہا’’وزیر خارجہ وانگ یی سے مل کر خوشی ہوئی، گزشتہ سال کازان میں صدر شی جن پنگ کے ساتھ میری ملاقات کے بعد سے ہندوستان اور چین کے تعلقات ایک دوسرے کے مفادات اور حساسیت کے احترام کے ساتھ بتدریج آگے بڑھے ہیں۔ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے دوران تیانجن میں ہونے والی ہماری اگلی میٹنگ کا منتظر ہوں اورہندوستان اور چین کے درمیان تعلقات کو دوبارہ تعمیر کرنے کے قابل بنائیں گے ‘‘۔
قابل ذکر ہے کہ وانگ نے منگل کو سرحدی تنازعہ پر خصوصی نمائندہ سطح کی میٹنگ کے ۲۴ویں دور میں شرکت کی۔ بعد میں انہوں نے شام کو وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی۔ اس سے پہلے پیر کو انہوں نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی تھی۔
اس سے پہلے قومی سلامتی کے مشیر(این ایس اے) اجیت ڈوبھال نے کہا ہے کہ گزشتہ سال ہندوستان اور چین کی اعلیٰ قیادت کے درمیان بات چیت کے بعد سے باہمی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں اور اس سے دونوں ممالک کو مثبت سمت میں آگے بڑھنے میں مدد ملی ہے ۔
ڈوبھال نے ہندوستان کے دورے پر آئے چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ منگل کو یہاں خصوصی نمائندہ سطح کی ۲۴ویں دور کی میٹنگ سے قبل اپنے ابتدائی بیان میں وانگ اور ان کے وفد کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ گزشتہ نو مہینوں میں سرحدوں پر امن اور ہم آہنگی کی وجہ سے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
این ایس اے نے کہا’’گزشتہ نو مہینوں میں ایک مثبت رجحان رہا ہے ۔ سرحدیں پرسکون رہی ہیں۔ امن اور ہم آہنگی قائم ہوئی ہے ۔ ہمارے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ ہم اپنے قائدین کے بے حد مشکور ہیں جنہوں نے گزشتہ اکتوبر میں کازان میں ایک نئی سمت کا تعین کیا اور اس کے بعد سے ہمیں بہت فائدہ ہوا ہے ۔ جو نئی فضا پیدا ہوئی ہے اس نے ہمیں مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے میں مدد فراہم کی ہے جن پر ہم کام کررہے ہیں‘‘۔
خصوصی نمائندہ کی سطح پر ہونے والی یہ بات چیت کامیاب ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے ڈوبھال نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی چین کا دورہ کریں گے اور ایسی صورتحال میں یہ بات چیت اور بھی اہم ہو جاتی ہے ۔
این ایس اے نے کہا ’’ مجھے پوری امید ہے کہ گزشتہ مذاکرات کی طرح یہ ۲۴ویں خصوصی نمائندے کی سطح کے مذاکرات بھی اتنے ہی کامیاب ہوں گے ۔ ہمارے وزیر اعظم جلد ہی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے چین جائیں گے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ نمائندہ خصوصی کی سطح کے یہ مذاکرات بہت اہم ہیں‘‘۔
ڈوبھال نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے۷۵سال مکمل ہونے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس مرحلے پر ہندوستان اور چین کے تعلقات مزید قریب تر ہوں گے ۔
واضح رہے کہ دورہ ہندوستان پر آئے وانگ نے پیر کو وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی تھی۔
اس دوران چین نے ہندوستان کو کھادوں، نایاب معدنیات اور ٹنل بنانے والی مشینوں کی فراہمی سے متعلق اس کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ ذرائع کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کو یہ یقین دہانی کرائی ہے ۔
وانگ یی دو روزہ دورے پر پیر کی شام ہندوستان پہنچے ۔ انہوں نے مسٹر جے شنکر کے ساتھ بات چیت میں یہ یقین دلایا۔
غور طلب ہے کہ دونوں وزراء کی آخری ملاقات گزشتہ ماہ بیجنگ میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر دو طرفہ ملاقات کی۔ وانگ یی یہاں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کے ساتھ سرحدی مذاکرات کے ۲۴ویں دور کی بات چیت کریں گے ۔
اپنے ابتدائی کلمات میں، ڈاکٹر جے شنکر نے تسلیم کیا کہ ہندوستان اور چین نے ’اپنے تعلقات میں ایک مشکل مرحلہ طے کیا ہے اور اب دونوں ممالک آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے دونوں طرف سے واضح اور تعمیری نقطہ نظر کی ضرورت ہے ‘۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تعلقات کی رہنمائی ’تین باہم منسلک اقدار ، باہمی احترام، باہمی حساسیت اور باہمی مفاد‘سے ہونی چاہیے۔اسے اختلافات، تنازعات یا مسابقت میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے ۔
ڈاکٹر جے شنکر نے کہا’’ہمیں امید ہے کہ ہماری بات چیت ہندوستان اور چین کے درمیان ایک مستحکم، تعاون پر مبنی اور مستقبل کے حوالے سے تعلقات قائم کرنے میں مدد کرے گی، جو ہمارے مفادات کو پورا کرتا ہے اور ہمارے خدشات کو دور کرتا ہے ‘‘۔
میٹنگ کے دوران، ڈاکٹر جے شنکر نے اس بات پر زور دیا کہ ’سرحد پرکشیدگی کم کرنے کے عمل‘کو آگے بڑھایا جانا چاہیے ۔
وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی وزیر اعظم نریندر مودی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کرنے والے ہیں۔ یہ دورہ پی ایم مودی کے سات برسوں میں چین کے پہلے ممکنہ دورے سے کچھ دن پہلے ہورہا ہے ۔
غور طلب ہے کہ پی ایم مودی کی اس ماہ کے آخر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر چین کا دورہ کرنے اور صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کرنے کی توقع ہے










