لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کے ۲۲ ویں یوم تاسیس کے موقع پر افتتاحی خطاب کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی آج جموں و کشمیر کے علم ، اختراع ، تحریک اور ثقافتی فخر کی روشنی کے طور پر کھڑی ہے ، جسے نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر تسلیم اور احترام کیا جاتا ہے۔
شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی عالمی تبدیلیوں کے مطابق انسانی وسائل پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اپنے سفر میں یونیورسٹی بہترین ادارے‘ذہنوں کی پرورش اور زندگیوں کو تبدیل کرنے والے ادارے کے طور پر ابھری ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اعلان کیا کہ یونیورسٹی کے نچلے متوسط درجے اور اس سے نیچے کے غیر تدریسی ملازمین کا دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا گیا ہے۔
منظوری کے مطابق اس زمرے کے تمام غیر تدریسی ملازمین جو پہلے۵سال کے کنٹریکٹ سسٹم پر تھے اور جن کے کنٹریکٹ کی مدت کی مسلسل تجدید کی جاتی تھی ، انہیں اب باقاعدہ بنایا جائے گا اور کنٹریکٹ سسٹم کو اس طرح ہٹا دیا جائے گا۔
سنہا کاکہنا تھا’’یہ فیصلہ انصاف پسندی ، صلاحیتوں کو برقرار رکھنے اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ہمارے عزم کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ اقدام شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کی بنیاد کو مضبوط کرے گا اور ملازمین کو اپنی ملازمتوں میں استحکام کا ایک نیا احساس فراہم کرے گا ، جس سے وہ مزید اعتماد اور لگن کے ساتھ یونیورسٹی کی ترقی میں حصہ ڈالنے کیلئے بااختیار ہوں گے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کی انتظامیہ ، اساتذہ ، عملے اور طلباء کو بھی بہت کم وقت میں ملک کی سرفہرست۱۰۰یونیورسٹیوں میں اپنی شناخت بنانے پر مبارکباد دی۔
قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق یونیورسٹی کو کثیر شعبہ جاتی ادارے میں تبدیل ہوتے دیکھنا حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیزائن یور اون ڈگری‘ روبوٹکس بہ ٹیک ‘ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ایم ایس سی ڈیٹا سائنس جیسے پروگراموں میں بڑھتے ہوئے اندراج بھی متاثر کن ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے فیکلٹی ممبران سے کیمپس میں مہارت پر مبنی سیکھنے کا ماحول تیار کرنے کی اپیل کی۔
سنہانے کہا ’’ملک میں اختراع کاروں ، صنعت کاروں ، معماروں اور ہنر مند پیشہ ور افراد کی اگلی نسل کو تیار کرنے کی ہماری بھاری ذمہ داری ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے طلباء کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں حاصل کردہ مہارت اور علم کو قوم کی تعمیر میں حصہ ڈالنے کے لیے وقف کریں۔انہوں نے مشاہدہ کیا کہ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تخلیق اور معاشرے کی خوشحالی تعلیم کی افادیت کے معیار ہیں۔ انہوں نے سابق طلباء سے کہا کہ وہ معاشرے کی ضروریات کو پورا کریں اور یونیورسٹی کو بہتر بنانے میں اپنا تعاون دیں۔
سنہا نے ان شہریوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے کشتوڑ اور کٹھوعہ میں حالیہ قدرتی آفات کے دوران اپنی جانیں گنوائیں۔
ایل جی نے کہا کہ مکمل حکومت کے نقطہ نظر کے ساتھ ، امدادی کام جنگی پیمانے پر جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے عزت مآب وزیر اعظم نریندر مودی جی اور عزت مآب وزیر داخلہ جناب امت شاہ جی سے بھی بات کی ہے اور حکومت ہند متاثرہ خاندانوں کی جلد از جلد مناسب بحالی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔










