نئی دہلی، 19 اگست (یواین آئی) بہار میں ووٹر لسٹ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل سے دستبرداری اور ووٹ چوری کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کے ہنگامہ آرائی کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی منگل کو دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
جیسے ہی پریذائیڈنگ آفیسر دلیپ سائکیا نے تین التوا کے بعد چار بجے ایوان کی کارروائی شروع کی تو اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پہلے کی طرح ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں آگئے اور نعرے بازی شروع کردی۔
ہنگامہ آرائی کے درمیان وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے بل کو منظور کرنے کی تجویز پیش کی جسے صوتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔
پریزائیڈنگ آفیسر سائکیا نے ہنگامہ آرائی کرنے والے ارکان سے کہا کہ وہ شور مچا کر کارروائی میں خلل نہ ڈالیں، اپنے اپنے مقامات پر جائیں۔ ان کی اپیل کا اراکین پر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ نعرے لگاتے ہوئے شور مچاتے رہے ۔ اس پر پریذائیڈنگ افسر نے کہا کہ ارکان ایوان کی کارروائی نہیں چلنے دینا چاہتے اور انہوں نے بدھ کی صبح گیارہ بجے تک کارروائی ملتوی کر دی۔
اس سے پہلے جیسے ہی پریزائیڈنگ آفیسر کرشنا پرساد ٹینیٹی نے دو التوا کے بعد دوپہر دو بجے ایوان کی کارروائی شروع کی تو اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ ارکان اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ لے کر ایوان کے وسط میں آئے اور نعرے لگاتے رہے تاہم پریزائیڈنگ افسر نے ہنگامہ آرائی کے درمیان ایوان کو چلانے کی کوشش کی۔
انہوں نے ‘2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے عزم میں خلائی پروگرام کا اہم کردار’۔ پر بحث کے لیے بی جے پی کے نشی کانت دوبے کا نام لیا۔
مسٹر دوبے نے ہنگامہ آرائی کے درمیان بحث شروع کرتے ہوئے کانگریس کو نشانہ بنایا اور کہا کہ اس نے کبھی سائنس دانوں کا احترام نہیں کیا، اس لیے کانگریس بحث سے بھاگ رہی ہے اور اس موضوع پر بحث نہیں چاہتی۔
پریزائیڈنگ افسر نے مسٹر دوبے سے بحث روکنے کی اپیل کی اور ہنگامہ کرنے والے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان سے پرسکون رہنے کی اپیل کی، لیکن جب کسی نے ان کی بات نہ سنی تو انہوں نے ایوان کی کارروائی چار بجے تک ملتوی کر دی۔
اس سے قبل دوپہر 12 اور 11 بجے ایوان کی کارروائی ایس آئی آر اور ووٹ چوری کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کے ہنگامہ آرائی کے باعث ملتوی کرنا پڑی تھی۔










