سچ تو یہ ہے کہ … کہ یہ کچھ زیادہ ہی ہوگیا … کچھ زیادہ ہی Too Much ہو گیا کہ بھلا ۳۵ سیکنڈ کی تاخیر بھی کوئی تاخیر ہوئی … کیا یہ کوئی تاخیر ہو تی ہے … صاحب ہم جس دنیا کے واسی ہیں… وہاں تو ۳۵ سیکنڈ کیا … ۳۵ منٹ کی تاخیر بھی کوئی تاخیر نہیں تصور کی جاتی ہے اور… اور اگر کہیں ۳۵ منٹ کی تاخیر ہو جائے تو اللہ میاں کی قسم اس پر بات بھی نہیں کی جاتی ہے…کارروائی اور معاوضہ یا جرمانہ تو دور کی بات ہے… چلئے سیدھا مطلب پر آتے ہیں تو… تو ہوا یوں کہ جاپان کے کسی اسٹیشن… ریلوے اسٹیشن پر ٹرین ۳۵ منٹ… معاف کیجئے ۳۵ سکینڈ کی تاخیر سے پہنچ گئی … یہ جاپان ہے اس لئے ٹرین کے ڈرائیور صاحب نے سواریوں سے ‘ مسافروں سے اس تاخیر پر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی… ڈرائیور پشیمان تھا کہ اس سے یہ غلطی کیسے سرزد ہو ئی… ۳۵ سکینڈ تاخیر ہو ئی… جاپان میں چونکہ وقت کی پابندی کا خیال بڑی پابندی سے رکھاجاتا ہے… اس لئے ریلویز نے ڈرائیور کی معافی پر ہی اکتفا نہیں کیا… بالکل بھی نہیں کیا… بلکہ سارے مسافروں کا کرایہ لوٹا بھی دیا… یعنی ۳۵ سکینڈ کی تاخیر کی سزا ریلوے نے خود کو دی اور… اور اس تاخیر کے معاوضے کے طور پر ٹرین میں سوار سبھی مسافروں کو ٹکٹ کے پیسے لوٹا دئے ! اب صاحب آپ کو نہیں لگتا ہے کہ یہ Too Muchہو گیا ؟مانتے ہیں کہ تاخیر نہیں ہونی چاہیے ‘ ٹرینوں کے آنے اور جانے میں تاخیر ہو نی چاہیے اور نہ ہوائی جہازوں کی روانگی اور آمد میں… سرکاری دفاتر میں ملازمین کے حاضر ہونے میں بھی کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہیے… کہیں پر مقررہ وقت پر پہنچنے میں بھی کوئی تاخیر نہیں ہو نی چاہیے… اللہ میاں کی قسم ہم یہ سب مانتے ہیں… دل سے مانتے ہیں… لیکن دل یہ نہیں مانتا ہے کہ ۳۵ سیکنڈ کی تاخیر بھی کوئی تاخیر ہو تی ہے… ایسی تاخیر کہ ڈرائیور مسافروں سے معافی مانگتا پھرے اور ریلویز کرایہ لوٹا دے … یہ اللہ میاں کی قسم سچ میں Too Much ہو گیا کہ… کہ اگر یہ معیار یہاں اپنا جائیگا… تو اندازہ لگائیے کہ یہاں کی ٹرینوں کے ڈرائیوروں اور جہازوں کے پائلٹوں کو ٹرین چلانے اور جہاز اڑانے میں کس قدر دقت ہوگی… مشکل ہو گی کہ… کہ پھر ان کا سارا وقت مسافروں سے معافی مانگنے میںجائیگا… ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے میں ۔ ہے نا؟




