(یواین آئی)
نیویارک//
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی ایک رپورٹ میں پہلگام دہشت گردانہ حملے میں پاکستان میں سرگرم دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کے کردار کا واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے ۔ اسے ہندوستان کی ایک اہم سفارتی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔
کونسل کی۱۲۶۷سینکشنز کمیٹی مانیٹرنگ ٹیم (ایم ٹی) کی رپورٹ اقوام متحدہ کی ایسی پہلی رپورٹ ہے جس میں ٹی آر ایف کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اسے براہ راست پاکستان کے دہشت گرد نیٹ ورک سے جوڑا گیا ہے ۔ یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کمیٹی کے تمام فیصلے کونسل کے اراکین متفقہ طور پر کرتے ہیں۔
معلوم ہو کہ اس سال۲۲؍اپریل کو کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے میں سیاحوں کی موت ہو گئی تھی۔
پاکستان نے اس سے قبل رپورٹ میں ٹی آر ایف کے ذکر کو دبانے کی کوشش کی تھی اور اس کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کی پارلیمنٹ میں جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ پہلگام حملے کی مذمت کرنے والے کونسل کے بیان میں ٹی آر ایف کا ذکر ان کی کوششوں کے بعد ہٹا دیا گیا ہے ۔
یہ پاکستان کے لیے انتہائی توہین آمیز ہے کہ ایم ٹی رپورٹ میں ٹی آرایف کو شامل کیاگیا ہے نیز علاقائی دہشت گردی معاملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کو بین الاقوامی سطح پر دیکھا گیا ہے ۔
یہ رپورٹ۲۰۱۹کے بعد اقوام متحدہ کی ایسی پہلی دستاویز ہے جس میں لشکر طیبہ اور پاکستان میں سرگرم دیگر دہشت گرد گروپوں کے ساتھ ٹی آرایف کے روابط کی تصدیق کی گئی ہے ۔
اس رپورٹ کا اثر یہ ہوگا کہ اقوام متحدہ کے فریم ورک کے تحت ٹی آرایف کی شناخت ایک دہشت گرد گروپ کے طور پر ہوگی۔
اس سے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک پر۱۲۶۷کے انتظام کے تحت ٹی آرایف اور اس سے وابستہ افراد یا اداروں کے خلاف اثاثوں کو منجمد کرنے ، سفری، مالیاتی اور ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی سمیت دوسری طرح کی پابندیوں کو نافذ کرنے کی ذمہ داری آجائے گی۔
رپورٹ کا جنوبی ایشیا سیکشن پہلگام حملے سے شروع ہوتا ہے ۔ اس میں ٹی آرایف کے حملے کی ذمہ د اری لینے اور بعد میں اس سے پیچھے ہٹنے کا ذکر ہے ۔ اس میں لشکر طیبہ سے تعلقات کی بات بھی کہی گئی ہے ۔
رپورٹ میں کہا گیا ’’۲۲؍اپریل کو، پانچ دہشت گردوں نے پہلگام، جموںکشمیر میں ایک سیاحتی مقام پر حملہ کیا، جس میں چھبیس شہری ہلاک ہوئے ۔ اسی روز حملے کی ذمہ داری ٹی آرایف نے قبول کی‘‘۔
ہندوستان نے پاکستان پر دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنے پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا ہے اور اقوام متحدہ کی جانب سے ٹی آرایف کی شناخت اس کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے ۔










