سرینگر//
جموں کشمیر حکومت نے پنجاب میں جانوروں کے ٹرانسپورٹروں کو ہراساں کیے جانے، بھتہ خوری اور زائد وصولیوں کی مسلسل شکایات کے پیشِ نظر، معاملے کو حل کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
اس کمیٹی کا مقصد پنجاب حکومت کے ساتھ بات چیت کر کے مویشیوں کی بلا رکاوٹ نقل و حمل کو یقینی بنانا ہے۔
ایک حکومتی حکم نامے کے مطابق، یہ کمیٹی منوج پربھاکر ڈپٹی کنٹرولر، لیگل میٹرولوجی ڈیپارٹمنٹ، جموں و کشمیر‘محمد رفیق بھٹ‘ ڈپٹی ڈائریکٹر، فوڈ، سول سپلائیز اینڈ کنزیومر افیئرز، کشمیراورشام لال ابرول ‘ ڈپٹی ڈائریکٹر، فوڈ، سول سپلائیز اینڈ کنزیومر افیئرز، جموں پر مشتمل ہو گی۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹیم پنجاب کا دورہ کرے گی، وہاں کے متعلقہ محکموں اور اعلیٰ افسران سے ملاقاتیں کرے گی، اور ایک اداراتی اور دوستانہ حل تلاش کرے گی تاکہ مویشیوں کی نقل و حمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے، اور جموں و کشمیر کے تاجروں کا روزگار متاثر نہ ہو۔
کمیٹی کو اپنی رپورٹ محکمانہ سطح پر دورے کے بعد پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دریں اثنا وادی کشمیر میں گوشت کا بحران بدھ کو مزید شدت اختیار کر گیا جب کہ قصابوں کی ہڑتال پانچویں روز بھی جاری رہی۔
ہڑتال کے باعث بازاروں میں گوشت کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وادی میں شادیوں کا سیزن اپنے عروج پر ہے۔
مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کشمیر کے جنرل سیکریٹری‘ معراج الدین گنائی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب میں تاجروں کو درپیش بنیادی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
گنائی نے کہا’’ہم نے پنجاب کے حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی سننے کو تیار نہیں۔ ہمارے ٹرانسپورٹرز اور ڈیلرز کو ہائی وے پر زبردستی روکا جاتا ہے، ہراساں کیا جاتا ہے، اور بھتہ وصولی کی جاتی ہے‘‘۔
ایک احتجاجی قصاب نے کہا’’ہم کوئی رعایت نہیں مانگ رہے، بس ایک منصفانہ اور محفوظ نظام چاہتے ہیں تاکہ اپنا کاروبار ایمانداری سے جاری رکھ سکیں‘‘۔
اس ہڑتال کے باعث شادیوں کی تیاریاں کرنے والے خاندان شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔
سرینگر کے ایک کیٹرر نے کہا’’اگر ہڑتال جاری رہی تو وازوان کی تیاری ممکن نہیں ہوگی۔ مٹن ہمارے روایتی پکوان کا بنیادی جزو ہے۔ اس تعطل کا برداشت کرنا ناممکن ہے‘‘۔
دریں اثنا، حکومت کی جانب سے جو تین رکنی کمیٹی پنجاب کے دورے کے لیے تشکیل دی گئی تھی، وہ تاحال روانہ نہیں ہوئی، جس کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔










