پہلگام کے تین حملہ آور دہشت گردوں کو ان کے سر میں گولی ماکر ہلاک کردیا گیا :وفاقی وزیر داخلہ کا راجیہ سبھا میں بیان
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
سرینگر//
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے راجیہ سبھا میں آپریشن سندور پر خصوصی بحث کے دوران ایک سخت موقف اپنایا۔
اپنے خطاب میں شاہ نے دہشت گردوں کو پیغام دیا، پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) کو واپس لینے کا وعدہ کیا اور اپوزیشن، خاص طور پر کانگریس پر تنقید کی۔
وزیر داخلہ نے آپریشن مہادیو سے متعلق ایک رونگٹے کھڑے کر دینے والی تفصیل بھی بتائی، جس میں حکومت کے مطابق پہلگام حملے میں ملوث دہشت گردوں کو مارا گیا۔
شاہ نے کہا’’پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد، مجھے ان لوگوں کے رشتہ داروں کی بہت ساری کالیں آئیں جنہیں مارا گیا تھا۔ وہ سب یہی کہہ رہے تھے کہ ان دہشت گردوں کو سیدھے سر میں گولی مار کر ہلاک کیا جائے۔ ہمارے افسروں نے انہیں ان ہی کے طریقے سے جواب دیا… ان کے سروں میں گولیاں مار کر مارا‘‘۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ آپریشن مہادیو میں مارے گئے تین دہشت گردوں کی شناخت ہو چکی ہے، اور یہ واضح ہے کہ پہلگام حملے میں لشکرِ طیبہ ملوث تھا۔
شاہ نے بتایا کہ انہوں نے سری نگر کے قریب پیر کے روز انکاؤنٹر میں مارے گئے دہشت گردوں کی شناخت کی تصدیق کے لیے بالِسٹک رپورٹ کا انتظار کیا اور وہ ۹۹ فیصد میچ کر گئی ہے … جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہی دہشت گرد پہلگام حملے میں ملوث تھے۔
شاہ نے ایوان کو بتایا’’میں ایک سخت پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کشمیر کو دہشت گردی سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا‘‘۔
وزیر داخلہ نے کہا’’میں پہلگام حملے میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے ملا۔ وہ سب اپنے پیاروں کے بچھڑنے پر بین کر رہے تھے۔ دہشت گردوں نے ان کے مذہب پوچھ کر قتل کیا تھا‘‘۔
شاہ کی تقریر سے قبل کانگریس نے ایوان میں احتجاج کیا اور سوال اٹھایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی خود آ کر اس اہم موضوع پر جواب کیوں نہیں دے رہے۔ اس کے بعد کانگریس نے واک آؤٹ کر دیا اور امت شاہ کی تقریر کا بائیکاٹ کیا۔
امت شاہ نے کانگریس پر طنز کرتے ہوئے کہا’’کانگریس نے پاکستان کے قبضے والا کشمیر پاکستان کو دے دیا، لیکن بی جے پی کی حکومت اسے واپس لے کر آئے گی… اب تک انہوں نے دہشت گردوں کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا‘ وہ کسی بات کو سننے کے قابل ہی نہیں ہیں‘‘۔
مرکزی وزیر داخلہ نے راجیہ سبھا میں سینئر کانگریس رہنما اور سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم پر زبردست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دو دن قبل اپنے استعفے کا مطالبہ کیا تھا اور سوال اٹھایا تھا کہ کیا پہلگام حملے کے بعد آپریشن سندور کرنے سے پہلے یہ ثابت ہوا تھا کہ حملہ آور پاکستانی تھے؟
شاہ نے ایوان میں کہا’’میں چدمبرم صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں ‘ آپ کس کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے؟ پاکستان کو؟ لشکرِ طیبہ کو؟ ان دہشت گردوں کو؟ کیا آپ کو شرم نہیں آتی؟ دیکھیں آپریشن مہادیو نے کیا کیا۔ جس دن آپ نے سوال اٹھایا، اسی دن وہ تینوں دہشت گرد مارے گئے!‘‘
امت شاہ کا یہ بیان اس وقت آیا جب پیر کے روز پارلیمان میں آپریشن سندور پر بحث شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل پی چدمبرم نے ایک انٹرویو میں یہ اشارہ دیا تھا کہ پہلگام حملے میں ’’گھریلو دہشت گرد‘‘ بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ غیر ذمہ دارانہ ریمارکس نہ صرف ملک کے وقار کے خلاف ہیں بلکہ دہشت گردوں کو بچانے کی کوشش کے مترادف ہیں۔










