واشنگٹن//
امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں سے ہونے والے ماحولیاتی نقصان پر ایک تاریخی رپورٹ "ایڈنجرمنٹ فائنڈنگ” کو مسترد کرنے جا رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پر کام کرنے والے ادارے اس اعلان سے سکتے میں آگئے ہیں۔
یہ رپورٹ 2009 میں اس وقت کے صدر براک اوباما کے دور میں تیار کی گئی تھی۔ انہوں نے یو ایس انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) کو اخراج کے معیارات طے کرکے آلودگی کو محدود کرنے کے قوانین بنانے کی اجازت دی تھی۔ اب امریکہ اس رپورٹ کے نتائج کو مسترد کرنے جا رہا ہے۔ اس سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ کی کوششیں نمایاں طور پر متاثر ہو سکتی ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قدم سے ماحولیات پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
قابل غور ہے کہ امریکہ عالمی موسمیاتی تبدیلی کے عوامل میں ایک بڑا حصہ دار ہے۔ امریکہ کا فی کس اخراج آج دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ جب یہ رپورٹ تیار کی گئی تو معلوم ہوا تھاکہ کاروں، پاور پلانٹس اور فیکٹریوں جیسے ذرائع سے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ اخراج ہی موسمیاتی تبدیلیوں کا سبب ہے اور یہ لوگوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
اگر امریکہ اس رپورٹ سے دستبردار ہو جاتا ہے تو وہ اخراج کے معیار پرآنے والے اخراجات کی صورت میں 54 ارب امریکی ڈالر بچا سکتا ہے۔










