منگل, ستمبر 1, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home تازہ تریں

آئی ڈبلیو ٹی کی معطلی کے بعد تلبل نیوی گیشن پروجیکٹ کو بحال کرنے کی تیاریاں شروع

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-05-20
in تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
حکومتی پینل کاآئی ڈبلیو ٹی کے جاری ترمیمی عمل کا جائزہ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

’کوئی اختیار نہیں‘،ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد 

پاکستانی انسانی حقوق کمیشن کا پی او جے کے انتخابات کی شفافیت پر سوال

سرینگر/۰۲مئی
حکومت ہند نے پاکستان کے ساتھ انڈس واٹر ٹریٹی (آئی ڈبیلو ٹی) کو عارضی طور پر معطل رکھنے کے فیصلے کے بعد شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں واقع طویل عرصے سے تعطل کا شکار تلبل نیوی گیشن پروجیکٹ (ولر بیراج) کو دوبارہ بحال کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے ۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے وادی کشمیر میں پانی کی دستیابی، بجلی کی پیداوار اور نیوی گیشن کے شعبے میں نمایاں بہتری کی توقع ہے ۔
یہ منصوبہ، جو دریائے جہلم کے کنارے ولر جھیل کے دہانے پر سوپور کے نزدیک واقع ہے ، ابتدائی طور پر 1980 کی دہائی میں تجویز کیا گیا تھا تاکہ پانی کے بہا¶ کو منظم کیا جا سکے اور سرحدی علاقوں، خاص طور پر اوڑی میں واقع پن بجلی منصوبوں کے لیے مستقل آبی وسائل فراہم کیے جا سکیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس پروجیکٹ کا تقریباً 90 فیصد کام 2016 تک مکمل ہو چکا تھا، تاہم پاکستان کی جانب سے انڈس واٹر ٹریٹی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے سخت اعتراضات کے باعث کام روک دیا گیا۔
پاکستان نے اسے پانی ذخیرہ کرنے والا منصوبہ قرار دیا، جو معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے ۔ تاہم ہندوستان نے مستقل یہ م¶قف اختیار کیا کہ یہ محض ایک ‘نیوی گیشن لاک’ ہے جو آرٹیکل 9 کے تحت جائز ہے ۔
مرکزی حکومت اب اس پروجیکٹ کو ایک سرکاری ہائیڈرو پاور کمپنی کے سپرد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ وہیں سے کام دوبارہ شروع کیا جا سکے جہاں یہ رُکا تھا۔ حکام نے بتایا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ سے تازہ ترین تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں تاکہ ایک مکمل بحالی منصوبہ تیار کیا جا سکے ۔
ایک سینئر افسر کے مطابق’ہم نہ صرف تلبل نیوی گیشن پروجیکٹ بلکہ ان دیگر منصوبوں کو بھی بحال کرنا چاہتے ہیں جنہیں پاکستان کے اعتراضات کی وجہ سے روکا گیا تھا‘۔
تلبل منصوبہ 1984 میں مرکزی حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت 439 فٹ لمبی اور 40 فٹ چوڑی بیراج تعمیر کی جانی تھی، جس کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 0.30 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) تھی۔ اس کا مقصد بالخصوص خزاں اور سردیوں میں دریائے جہلم کے پانی کے بہا¶ کو برقرار رکھنا تھا جب پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو جاتی ہے ۔
تاہم 1985 میں پاکستان کی جانب سے اعتراضات کے بعد کام روک دیا گیا اور 1986 میں اسلام آباد نے یہ معاملہ انڈس واٹر کمیشن میں اٹھایا، جس کے بعد 1987 میں تمام تعمیراتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل کر دی گئیں۔
جموں و کشمیر کے سابق وزیر تاج محی الدین نے 2010 میں اس منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ 2016 تک منصوبے پر 90 فیصد کام مکمل ہو چکا تھا اور وہ بھی 1980 کی لاگت سے کافی کم خرچ پر۔ تاہم بعد کی حکومت نے اس منصوبے کو بغیر کسی وجہ کے بند کر دیا۔
تقریباً دو برس بعد نامعلوم دہشت گردوں نے اس پروجیکٹ کے لیے تعمیر کردہ باندھ پر گرینیڈ سے حملہ کیا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
تاج محی الدین نے یو این آئی کو بتایا”یہ منصوبہ کشمیر کے مفاد میں ہے ، اسے منطقی انجام تک ضرور پہنچنا چاہیے “۔
اوڑی میں قائم تین پن بجلی منصوبے گرمی میں تو مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کرتے ہیں، مگر سردیوں میں پانی کی کمی کی وجہ سے ان کی پیداوار 20 فیصد سے بھی کم ہو جاتی ہے ۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ تلبل بیراج ان موسمی اتار چڑھا¶ کو متوازن بنانے میں مدد دے گا، جس سے سال بھر بجلی کی پیداوار ممکن بنائی جا سکتی ہے ۔
تلبل نیوی گیشن پروجیکٹ کی بحالی کشمیر کے لیے نہ صرف اقتصادی لحاظ سے ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے بلکہ یہ انڈس واٹر ٹریٹی پر نئی سفارتی سمت کا بھی اشارہ ہے ۔ حکومت ہند کا موجودہ رویہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اب معاہدے کے یکطرفہ نفاذ سے تنگ آ چکی ہے اور ملک کے مفادات کو ترجیح دینے کے لیے تیار ہے ۔
اگرچہ پاکستان مسلسل اس م¶قف پر قائم ہے کہ تلبل اسٹرکچر ایک ذخیرہ آب ہے جو انڈس واٹر ٹریٹی کی خلاف ورزی کے زُمرے میں آتا ہے ، لیکن نئی دہلی کا م¶قف ہے کہ یہ ایک ’نیویگیشن لاک‘ہے جس کا مقصد سال بھر آبی نقل و حمل اور پانی کے بہا¶ کو منظم رکھنا ہے ، اور یہ معاہدے کے آرٹیکل 9 کے تحت بالکل جائز ہے ۔
یہ منصوبہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان برسوں جاری رہنے والے جامع مذاکرات کے آٹھ کلیدی موضوعات میں شامل تھا، تاہم طویل گفت و شنید کے باوجود اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

لیفٹیننٹ گورنر نے یونیفائیڈ ہیڈکواٹرز میٹنگ کی صدارت کی

Next Post

سچ جو جنگ میں شہید ہو تا ہے !

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’کوئی اختیار نہیں‘،ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد 
اہم ترین

’کوئی اختیار نہیں‘،ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد 

2026-09-01
پاکستانی انسانی حقوق کمیشن کا پی او جے کے انتخابات کی شفافیت پر سوال
اہم ترین

پاکستانی انسانی حقوق کمیشن کا پی او جے کے انتخابات کی شفافیت پر سوال

2026-09-01
’بھارت کثرت میں وحدت کے اصول پر قائم‘
اہم ترین

سنہا کی انڈین ریڈ کراس سوسائٹی کی سالانہ جنرل میٹنگ کی صدارت

2026-09-01
اننت ناگ کے نوجوان کسان نے روپ وے بنا کر شعبہ باغبانی میں انقلاب برپا کیا
اہم ترین

’جموں و کشمیر میں سیب کی پیداواریت میں کمی‘ بادام کی کاشت سکڑ گئی‘

2026-09-01
ماہانہ وظیفے میں اضافہ ‘انٹرن ڈاکٹروں کی غیر معینہ ہڑتال شروع
اہم ترین

ماہانہ وظیفے میں اضافہ ‘انٹرن ڈاکٹروں کی غیر معینہ ہڑتال شروع

2026-09-01
بالائی علاقوں میں تازہ برفباری‘ میدانی علاقوں میں بارش
اہم ترین

 آئندہ۲۴سے۴۸ گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کا امکان

2026-09-01
رام بن میں پولیس اور فوج کی مشترکہ کارروائی میں جنگجوؤں کی خفیہ کمیشن گاہ تباہ
اہم ترین

شوپیاں میں دہشت گردوں  کا ٹھکانہ تباہ، اسلحہ و گولہ بارود برآمد

2026-09-01
سرینگر سڑک حادثے میں دو؍افراد ہلاک ‘ایک زخمی
اہم ترین

واتھورہ میں ٹرک کی زد میں  آکر۱۷ سالہ لڑکا جاں بحق

2026-09-01
Next Post
سازش۔۔۔۔۔۔۔؟

سچ جو جنگ میں شہید ہو تا ہے !

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.