نئی دہلی// عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے منگل کو کہا کہ اگر پاکستان نے خود ہاتھ جوڑ کر جنگ بندی کی درخواست کی تھی تو ہندوستان کے بجائے امریکہ نے اس کا اعلان کیوں کیا؟
دہلی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آتشی نے آج کہا کہ جب ہندوستانی فوج پہلگام دہشت گردانہ حملے کا بدلہ لینے کے لئے دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کو منہ توڑ جواب دے رہی تھی، تو پھر کیا وجہ تھی کہ امریکہ اچانک سامنے آیا اور ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ "پہلگام حملے کا بدلہ پورا ہونے سے پہلے جنگ بندی کیوں ہوئی؟ جنگ بندی کیسے ہوئی؟ کیا ہم نے ملک کی بہنوں اور بیٹیوں کے سندور کا بدلہ لیا؟ کیا پہلگام کے دہشت گردوں کو ہندوستان کے حوالے کیا گیا؟”
انہوں نے کہا، "آج پورا ملک جاننا چاہتا ہے کہ اگر پاکستان نے خود ہاتھ جوڑ کر جنگ بندی کی مانگ کی تھی تو اس کا اعلان ہندستان کے بجائے امریکہ نے کیوں کیا؟ پاکستان دنیا کے سامنے آ کر کیوں نہیں کہتا کہ اس نے شکست تسلیم کر لی ہے؟ کوئی معاہدہ کیوں نہیں ہوا؟ پاکستان نے ابھی تک پہلگام پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو ہندستان کے حوالے کیوں نہیں کیا؟”
اے اے پی رہنما نے کہا، "وزیر اعظم آج پورا ملک جاننا چاہتا ہے، کیا آپ نے تجارت بند ہونے کے خطرے کی وجہ سے جنگ بندی کی؟ کیا امریکہ کے ساتھ تجارت ہندوستان کی بہنوں اور بیٹیوں کے سندور سے زیادہ قیمتی ہو گئی ہے؟”
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ "7 مئی کو جب ہندوستانی فوج نے آپریشن سندور شروع کیا تو پورا ملک ہندوستانی فوج کے ساتھ متحد ہوکر کھڑا تھا۔ ہندوستانی مسلح افواج نے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔” ہر سیاسی جماعت حکومت کے ساتھ کھڑی ہوئی کیونکہ یہ ہمارے ملک کا معاملہ تھا۔ یہ ہماری بہنوں اور بیٹیوں کے سندور کی بات تھی لیکن 10 مئی کو اچانک جنگ بندی کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کل ملک کے ساتھ یک طرفہ بات چیت کی۔










