نئی دہلی// راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکڑاور اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کے وزیر نتن گڈکری سے اپنے اپنے علاقوں میں قومی شاہراہیں بنانے کا مطالبہ کیا۔
مسٹر گڈکری ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران آسام میں قومی شاہراہوں سے متعلق ضمنی سوالات کا جواب دے رہے تھے ۔ ایوان کے ضابطے کے مطابق اراکین ایک سوال پر پانچ ضمنی سوالات پوچھ سکتے ہیں لیکن مسٹر کھڑگے کی درخواست پر چیئرمین نے ضابطے سے انحراف کرتے ہوئے انہیں چھٹا ضمنی سوال پوچھنے کی اجازت دی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج وہ خود ایک ضمنی سوال کے ذریعے ہائی ویز کے وزیر کے سامنے اپنی درخواست رکھیں گے ۔
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ انہوں نے مسٹر گڈکری اور وزیر اعظم نریندر مودی کو کئی بار خط لکھ کر گلبرگہ سے بنگلورو، سولاپور سے بنگلورو اور بیدر سے بنگلورو ہائی ویز پر کام تیز کرنے کی درخواست کی ہے ۔ اس سلسلے میں انہوں نے مسٹر گڈکری سے بھی ملاقات کی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ آج کل نیشنل ہائی وے نمبر لینے کے لیے بھی فائل وزیراعظم آفس بھیجی جاتی ہے ۔
مسٹر گڈکری نے کہا کہ فی الحال سورت سے کنیا کماری تک ایک نئی قومی شاہراہ تعمیر کی جا رہی ہے اور یہ ان علاقوں سے گزرے گی۔ انہوں نے مسٹر کھڑگے سے کہا کہ وہ انہیں اس علاقے کے بارے میں تفصیلی معلومات بھیجیں جس کے بارے میں وہ بات کر رہے ہیں اور وہ اس علاقے میں ہائی وے بنانے کی پوری کوشش کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کو فنڈز کا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن کرناٹک میں حصول اراضی کا بڑا مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دس برسوں میں کرناٹک میں سڑکوں پر کافی کام ہوا ہے ۔
ہائی ویز کی نمبرنگ کے حوالے سے انہوں نے وضاحت کی کہ ہائی ویز کی نمبرنگ کی فائل وزیراعظم آفس کو نہیں بھیجی جاتی۔ مسٹر گڈکری نے کہا کہ انہیں مکمل اختیار کے ساتھ اس وزارت کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔
اس کے بعد مسٹر دھنکڑنے کہا کہ ان کی پیدائش راجستھان کے جھنجھنو ضلع کے کیتھانہ گاؤں میں ہوئی ہے اور ان کی دیرینہ خواہش رہی ہے کہ اس گاؤں کو قومی شاہراہ سے جوڑا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس شاہراہ کی تعمیر کے بعد دہلی کا فاصلہ 30 کلو میٹر کم ہو جائے گا۔
اس پر مسٹر گڈکری نے چیئرمین سے کہا کہ وہ انہیں اس بارے میں تفصیلات بھیجیں اور اس سمت میں کام کیا جائے گا۔