نئی دہلی// وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لوگوں سے میجر باب کھاتھنگ کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قوم کو ہمیشہ سب سے اوپر رکھنے ، متحد رہنے ، ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے اور اہداف کے حصول کے لیے بے خوف ہو کر آگے بڑھنے کی اپیل کی ہے ۔
مسٹر سنگھ نے بدھ کو یہاں آسام رائفلز اور یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوشن آف انڈیا (یو ایس آئی) کی طرف سے مشترکہ طور پر منعقد میجر باب کھاتھنگ میموریل پروگرام کے پانچویں ایڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
وزیر دفاع نے میجر باب کھاتھنگ کو جذباتی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک غیر معمولی شخصیت تھے جنہوں نے شمال مشرقی خطہ اور قومی سلامتی کے لیے انمول خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا، "ہندوستان خوش قسمت ہے کہ وہ ایسی نامور شخصیات کا گھر ہے جن کے لیے ملک کی سلامتی، سالمیت اور خودمختاری سب سے پہلے ہے ۔” انہوں نے میجر کھاتھنگ کو ہندوستان کا ایک عظیم بیٹا قرار دیا جنہوں نے میدان جنگ میں اپنی بہادری اور سفارت کاری کے میدان میں مہارت کے ذریعے ملکی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی عظیم ہستیوں کے نظریات اور اصولوں کو اپنائیں ۔
مسٹر سنگھ نے نہ صرف توانگ بلکہ پورے شمال مشرقی خطے کے انضمام، ترقی اور تعمیر نو میں میجر کھاتھنگ کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، "میجر باب کھاتھنگ نے قومی اتحاد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ، انہوں نے شمال مشرق کے لیے جو کام کیا، وہ قومی سطح پر سردار ولبھ بھائی پٹیل کے کام کی طرح ہے ۔” وزیر دفاع نے کہا کہ میجر باب کھاتھنگ نے ایک بھی گولی چلائے بغیر توانگ کو مؤثر طریقے سے ہندوستان میں ضم کر دیا اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت ایسے انقلابیوں کے اصولوں پر عمل پیرا ہے ۔ انہوں نے کہا، "ہم نے سب سے بڑی رکاوٹ – آرٹیکل 370 کو ہٹا کر جموں و کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ مکمل انضمام کیا – یہ کام تمام اسٹیک ہولڈرز کو ذہن میں رکھتے ہوئے مکمل سیکورٹی کے ساتھ پرامن طریقہ سے کیا گیا۔”
وزیر دفاع نے میجر کھاتھنگ کی انتظامی صلاحیت، خاص طور پر سشسترا سیما بال اور ناگالینڈ آرمڈ پولیس کی تشکیل اور اس طرح کی دیگر اصلاحات میں ان کے تعاون پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دیکرکہا کہ اسی طرح حکومت بھی انتظامی اصلاحات پر توجہ دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا، "کم ازکم حکومت، زیادہ سے زیادہ حکمرانی اور گڈ گورننس کے ذریعے ، ہم نے عوام اور حکومت کے درمیان فرق کو کم کیا ہے ، آج ڈیجیٹل انڈیا اور جن دھن، آدھار، موبائل (جے اے یم) ٹرینیٹی کے ذریعے آج انتظامیہ زیادہ لوگوں پر مبنی ہو گئی ہے ۔”
مسٹر سنگھ نے کہا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی میجر کھاتھنگ جیسی شخصیات کی سفارتی صلاحیتوں پر مبنی ہے ۔ انہوں نے کہا، "آج ہندوستان دنیا میں موجود غیر یقنی کی صورتحال کے درمیان اپنی ہارڈ پاور اورسافٹ پاور کے درمیان توازن برقرار رکھے ہوئے ہے یہ بہت فخر کی بات ہے کہ ہندوستان نے اپنی عالمی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے ،دنیا کے سامنے ایک نیا، مضبوط اور منظم ہندوستان ابھرا ہے ۔ ایک وقت تھا جب بین الاقوامی فورمز پر ہندوستان کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا لیکن آج جب ہم بولتے ہیں تو دنیا سنتی ہے ۔ یہ میجر کھاتھنگ کے نظریات سے متاثر ہے ۔
وزیر دفاع نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ میجر کھاتھنگ جیسی شخصیات سے حاصل کی گئی تنظیمی صلاحیتوں کی وجہ سے ہندوستان نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے ۔ انہوں نے 2047 تک ہندوستان کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے متحد رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر دفاع نے اکتوبر 2024 میں توانگ میں میجر رالینگاو ‘باب’ کھاتھنگ ‘گیلنٹری میوزیم’ کا ورچولی طور پر افتتاح کیا تھا۔ ان کا توانگ جانے کا پروگرام تھا لیکن خراب موسم کی وجہ سے نہیں جا سکے ۔ انہوں نے آسام کے تیز پور میں چار کور ہیڈ کوارٹر سے اس کا افتتاح کیا۔ مسٹر سنگھ نے شمال مشرقی خطے کے لوگوں کی قوت ارادی اور ہمت کی تعریف کی جو مشکل حالات میں رہنے کے باوجود قوم کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔