سرینگر//
جموں کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ کسی فرد کو صرف اس کے بھائی کے ملی ٹنسی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے پاسپورٹ دینے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ پاسپورٹ جاری کرنے کی بنیاد درخواست گذار کا اپنا طرز عمل ہونا چاہیے ۔
عدالت عالیہ کا یہ فیصلہ رام بن کے رہائشی محمد عامر ملک کی طرف سے دائر کی گئی درخواست میں سامنے آیا ہے جس نے۲۰۲۱میں پاسپورٹ کے اجراء کیلئے درخواست دائر کی تھی۔تاہم ان کی درخواست کو پولیس کی ایک منفی تصدیقی رپورٹ کی وجہ سے زیر التوا رکھا گیا تھا۔
پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ محمد عامر ملک کا مرحوم بھائی محمد ایاز ملک حزب المجاہدین سے وابستہ ملی ٹنٹ تھا اور۲۰۱۱میں ایک انکاؤنٹر میں مارا گیا تھا جبکہ اس کا والد ایک ملی ٹنٹ معاون تھا۔
درخواست گذار نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیاتھا کہ اس کے خلاف کوئی مجرمانہ الزامات نہیں ہیں اور اس کے خاندان کے ماضی کیلئے اس کو غیر منصفانہ طور پر سزا دی جا رہی ہے ۔
عدالت نے ان کی درخواست کو برقرار رکھا اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، سی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ محمد عامر ملک کے بھائی اور اس کے والد کے طرز عمل یا سرگرمیوں سے متاثر ہوئے بغیر چار ہفتوں کے اندر ریجنل پاسپورٹ آفیسر میں رپورٹ دوبارہ جمع کرائیں۔
عدالت نے کہا کہ پاسپورٹ آفیسر اے ڈی جی پی کی رپورٹ پر درخواست گذار کے کیس پر غور کرے گا اور اس کے بعد دو ہفتوں کے اندر اس کے حق میں مناسب حکم جاری کرے گا۔
پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور پیپلز کانفرنس کے صدر اور رکن اسمبلی سجاد لون نے عدالت عالیہ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔
محبوبہ کا کہنا ہے کہ عدالت عالیہ کا کسی فرد کو محض ملی ٹنسی سے تعلق ہونے کی وجہ سے پاسپورٹ دینے سے انکار کرنے کے متعلق فیصلہ ایک احسن اقدام ہے ۔
محبوبہ نے کہا’’پاسپورٹ دفاتر میں لاتعداد کیسز زیر التوا ہیں جو سی آئی ڈی ڈیپارٹمنٹ سے کلیئرنس کے منتظر ہیں‘‘۔
پی ڈی پی صدرنے بدھ کو’ایکس‘پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا’’عدالت عالیہ کا کسی فرد کو محض ملی ٹنسی سے تعلق ہونے کی وجہ سے پاسپورٹ دینے سے انکار کرنے کے متعلق فیصلہ ایک اچھا اقدام ہے‘‘۔
محبوبہ نے کہا’’سال۲۰۱۹سے کس طرح جموں و کشمیر میں سفر کے بنیادی حق کو بھی ہتھیار بنایا جا رہا ہے‘‘۔
ان کا پوسٹ میں کہنا تھا کہ پاسپورٹ دفاتر میں لاتعداد کیسز زیر التوا ہیں جو سی آئی ڈی ڈیپارٹمنٹ سے کلیئرنس کے منتظر ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا’’ایسے افراد کو نہ صرف پاسپورٹ دینے سے انکار کیا جاتا ہے بلکہ صحافیوں، طلبا اور ملازمت کے متلاشی افراد کو بھی جو سرکاری ملازمتوں کیلئے ضروری شرائط پورا کرنے کے باوجود بھی صرف سی آئی ڈی کی جانب سے دی گئی منفی رپورٹ کی وجہ سے نوکریوں سے انکار کر دیا جاتا ہے‘‘۔
محبوبہ نے کہا’’متعلقہ ملی ٹنٹ کی حیثیت ‘چاہے وہ مردہ ہو یا زندہ‘ غیر متعلق معلوم ہوتی ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا’’بدقسمتی سے یہ پالیسی ایسے افراد تک بھی پھیلائی گئی ہے جن کا تعلق جماعت اسلامی کے ارکین سے دور دور تک ہے ۔‘‘
اس دوران پیپلز کانفرنس کے صدر اور رکن اسمبلی سجاد لون نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا’’مجھے امید ہے کہ ہماری پارٹی کی درخواست کے جواب میں جلد ہی ایسے ہی خطوط پر ایک جامع فیصلہ جاری کیا جائے گا‘‘۔
لون نے زور دے کر کہا’’ان کی پارٹی نے پہلے ہی ایک عرضی کے ذریعے ’اجتماعی سزا‘کیلئے پولیس تصدیق کے ’بڑھتے ہوئے غلط استعمال‘کو چیلنج کیا ہے‘‘۔
عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے لون کا کہنا تھا’’یہ فیصلہ ایسے ہزاروں لوگوں کے لیے ایک طاقتور مثال قائم کرتا ہے جو اسی طرح کے امتیازی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا’’یہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا تاہم کبھی نہ ہونے سے دیر سے ہونا بہتر ہے ‘‘۔
ان کا اپنے پوسٹ میں مزید کہنا تھا’’مجھے امید ہے کہ اس فیصلے کو پورے جموں کشمیر میں بڑھایا جائے گا اور ہماری درخواست پر بھی فوری توجہ دی جائے گی۔‘‘










