سرینگر//
جموں کشمیر میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بدھ کے روز ضلع کولگام میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سابق فوجی منظور احمد وگے کی رہائش گاہ کا دورہ کیا۔
جموں و کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور بی جے پی لیڈر سنیل شرما، ریاستی صدر ست پال شرما اور سابق ایم ایل اے رویندر رینا ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے وگے فیملی سے ملاقات کی۔
پی ڈی پی رہنما التجا مفتی اور نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے بھی سوگوار خاندان سے ملاقات کی اور تعزیت کی۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان نے ایک ماڈیول بنایا ہے جو جموں کشمیر میں امن اور ترقی سے پڑوسی ملک کی مایوسی کے بعد معصوم اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
رینا نے کہا’’یہ قابل مذمت ہے اور قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا‘‘۔
سنیل شرما نے کشمیر میں بڑی تعداد میں اموات کیلئے نیشنل کانفرنس کو مورد الزام ٹھہرایا خاص طور پر وہ اموات جو۲۰۱۰ میں عمر عبداللہ کے وزیر اعلی کے طور پر پہلے دور حکومت کے دوران ہوئی تھیں۔
شرما نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ ۱۹۳۱ سے لے کر آج تک جموں کشمیر میں جو کچھ بھی ہوا اس کیلئے نیشنل کانفرنس ذمہ دار ہے۔’’ پارٹی بنیادی طور پر کشمیر میں ہونے والے خونریزی کی ذمہ دار ہے۔ میں نیشنل کانفرنس کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ صرف ۱۰ دنوں میں ۱۱۰ لوگوں کا قاتل ان کا وزیر اعلیٰ تھا‘‘۔
وہ نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار کے اس بیان کا جواب دے رہے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں حالات میں بہتری کے بارے میں مرکز کے دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں۔
شرما کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈار نے کہا کہ بی جے پی رہنماؤں کو شرم آنی چاہئے کیونکہ وہ سابق فوجی کی موت پر بھی سیاست کر رہے ہیں۔ان کاکہنا تھا’’میں نے کسی کا نام نہیں لیا اور نہ ہی الزام لگایا لیکن کیا وہ بھول جاتے ہیں کہ لیفٹیننٹ گورنر کا تعلق کس پارٹی سے ہے؟ یہ ایل جی ہی ہیں جو لاء اینڈ آرڈر کو سنبھال رہے ہیں‘‘۔
التجا مفتی نے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد کہا کہ وگے فیملی نے اپنا واحد کمانے والا کھو دیا ہے۔
التجا نے کہا’’فیملی کو معاوضہ دیا جانا چاہیے اور جانچ کا حکم دیا جانا چاہیے کیونکہ فیملی کے ممبروں کو خدشہ ہے کہ انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے‘‘۔
قتل کے بعد بڑی تعداد میں نوجوانوں کو حراست میں لیے جانے کے بارے میں التجا نے کہا کہ حکام ہر ایک کو ایک شخص کے جرم کی سزا دے رہے ہیں۔ان کاکہنا تھا’’کیا ہم سب عسکریت پسند ہیں؟ خوف کا ماحول ہے۔ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ وہ خوف کی وجہ سے رات کو سو نہیں سکتے۔ کشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔‘‘










