سرینگر//
وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سرینگر‘ جموں قومی شاہراہ پر رام بن میں بھاری بھرکم مٹی کے تودے گر آنے کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حمل بند ہے ۔
متعلقہ حکام نے لوگوں سے بحالی کا کام مکمل ہونے تک قومی شاہراہ پر سفر اختیار کرنے سے احتراز کرنے کی اپیل کی ہے ۔
جموں وکشمیر ٹریفک پولیس نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا’’رام بن میں ٹی۲ مروگ پر ایک بھاری بھرکم مٹی کا تودا گر آنے کی وجہ سے قومی شاہراہ پر ٹریفک بند کر دیا گیا ہے ‘‘۔
ٹویٹ میں لوگوں سے کہا گیا کہ وہ شاہراہ پر سفر اختیار کرنے سے قبل ٹریفک کنٹرول یونٹوں کے ساتھ رابطہ کریں۔
پولیس نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ قومی شاہراہ کی بحالی کا کام ہنوز جاری ہے اور لوگ مکمل بحالی تک اس پر سفر کرنے سے اجتناب کریں۔
دریں اثنا سرینگر ‘لیہہ شاہراہ اور جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کو جموں صوبے کے پونچھ اور راجوری اضلاع کے ساتھ جوڑنے والے تاریخی مغل روڈ پر ٹریفک کی نقل و حمل حسب معمول جاری ہے ۔
دریں اثنا سرینگر‘جموں شاہراہ بند ہونے کے پیش نظر بدھ کے روز جموں کے بھگوتی نگر بیس کمیپ سے یاتریوں کا کشمیر روانہ ہونے کا سلسلہ معطل رہا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ رام بن میں قومی شاہراہ مٹی کا تودا گر آنے کی وجہ سے بند ہونے کے پیش نظر یاتریوں کی جموں سے سری نگر اور سرینگر سے جموں روانگی کا سلسلہ بدھ کو بند رہا۔
ذرائع نے کہا کہ یاتریوں کے کشمیر روانہ ہونے کا سلسلہ شاہراہ بحال ہونے تک بند رہے گا۔
جموں وکشمیر ٹریفک پولیس نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا’’رام بن میں ٹی۲ مروگ پر ایک بھاری بھرکم مٹی کا تودا گر آنے کی وجہ سے قومی شاہراہ پر ٹریفک بند کر دیا گیا ہے ‘‘۔
پولیس نے کہا کہ قومی شاہراہ پر بحالی کا کام جاری ہے اور لوگوں سے کہا گیا ہے کہ بحالی کا کام مکمل ہونے تک شاہراہ پر سفر اختیار کرنے سے اجتیاب کریں۔
بتادیں کہ یکم جولائی سے شروع ہونے والی اس سالانہ یاترا کیلئے اب تک زائد از ساڑھے چار لاکھ یاتریوں نے پوتر گھپا کا درشن کیا ہے ۔
سال گذشتہ صرف۳لاکھ۶۰ ہزار یاتریوں نے ہی پوتر گھپا کا درشن کیا تھا۔۶۲دنوں پر محیط یہ یاترا؍۳۱؍اگست کو شرون پورنیما کے مقدس موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔