جموں؍ ۷ نومبر
جموں و کشمیر حکومت نے یونین ٹریٹری میں نجی یونیورسٹیوں کے قیام اور ان کے انتظام و انصرام سے متعلق نجی یونیورسٹیز قواعد ۲۰۲۶ کو باضابطہ طور پر نوٹیفائی کردیا ہے۔
اس اقدام سے ملک اور بیرون ملک کے نامور تعلیمی اداروں کے لیے جموں و کشمیر میں اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مضبوط بنانے اور مقامی نوجوانوں کے لیے تعلیمی و روزگار کے مواقع وسیع کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے مطابق نئے قواعد میں منظوری کے عمل کو آسان بنانے، داخلوں اور ملازمتوں میں جموں و کشمیر کے مستقل باشندوں کے لیے ۲۵ فیصد تحفظات، مؤثر نگرانی اور قواعد کی خلاف ورزی پر سخت سزاؤں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ان قواعد کا مقصد شفافیت، جواب دہی اور تعلیمی معیار کو یقینی بنانا ہے۔
عمر عبداللہ نے ان قواعد کی نوٹیفکیشن پر وزیر تعلیم شمیم فردوس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جموں و کشمیر میں قومی اور بین الاقوامی شہرت کے حامل اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام میں سہولت فراہم ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نیا ضابطہ تعلیمی شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گا، جس سے مقامی نوجوانوں کے لیے تعلیم اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ تدریس، تحقیق اور اختراع کے شعبوں میں معیار کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
عمرعبداللہ کے مطابق یہ اقدام سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (اسٹیم)، طب، قانون، کاروباری تعلیم اور لبرل آرٹس سمیت مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کی حوصلہ افزائی کرے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا مقصد جموں و کشمیر کے طلبہ کو اپنے ہی خطے میں معیاری اعلیٰ تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے ایک مسابقتی مرکز کے طور پر ترقی دینا ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









