سرینگر؍ ۷ نومبر
سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی اہلیہ اور کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے انکشاف کیا ہے کہ ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۴ کو اندرا گاندھی کے قتل کے بعد انہوں نے اپنے شوہر سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ قبول نہ کرنے کی التجا کی تھی۔ سونیا گاندھی کے مطابق انہیں خدشہ تھا کہ جس طرح اندرا گاندھی کو قتل کیا گیا، اسی طرح راجیو گاندھی کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
اخبار دی گارڈین میں شائع ہونے والی اپنی یادداشتوں کے ایک ترمیم شدہ اقتباس میں سونیا گاندھی نے ان جذباتی لمحات کا ذکر کیا ہے جب اندرا گاندھی کو ان کے محافظوں نے نئی دہلی میں واقع ان کی رہائش گاہ پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔
سونیا گاندھی کے مطابق اس وقت راجیو گاندھی مغربی بنگال میں ایک سیاسی ریلی میں شرکت کررہے تھے، جب انہیں دہلی میں پیش آنے والے سنگین واقعے کی اطلاع دی گئی۔ وہ فوری طور پر دارالحکومت واپس پہنچے اور تقریباً ساڑھے تین بجے اسپتال پہنچے۔
سونیا گاندھی نے اسپتال میں راجیو گاندھی سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ کچھ دیر اپنے شوہر کے ساتھ تنہائی میں وقت گزارنا چاہتی تھیں، لیکن جلد ہی انہیں احساس ہوگیا کہ راجیو انہیں ایسی بات بتانے والے ہیں جسے وہ سننا نہیں چاہتی تھیں۔
ان کے مطابق راجیو گاندھی نے انہیں بتایا کہ انہیں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے لیے کہا گیا ہے۔ یہ سن کر وہ شدید صدمے اور غصے میں آگئیں اور انہوں نے راجیو سے اس ذمہ داری کو قبول نہ کرنے کی التجا کی۔
سونیا گاندھی نے لکھا کہ انہوں نے روتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر راجیو گاندھی سے کہا کہ وہ وزارت عظمیٰ قبول نہ کریں، کیونکہ ان کی جان کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے راجیو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بچوں اور اپنے خاندان کی خاطر اس عہدے سے انکار کردیں، کیونکہ ’’وہ تمہیں بھی مار ڈالیں گے۔‘‘
سونیا گاندھی کے مطابق راجیو گاندھی نے جواب دیا تھا کہ ’’وہ مجھے ویسے بھی مار ڈالیں گے۔‘‘
دریں اثنا، بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہفتے کو سونیا گاندھی کے بی جے پی اور مودی حکومت سے متعلق بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ پارٹی نے ان سے کہا کہ وہ ملک کی گزشتہ ۱۲ برسوں کی ترقی کو دیکھنے کے لیے ’’اطالوی عینک‘‘ اتار دیں۔
بی جے پی نے ۲۵ جون ۱۹۷۵ کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے جواز پیش کرنے پر بھی سونیا گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کی تشہیری مہم تاریخی حقائق کو چھپا نہیں سکتی۔
بی جے پی کے سینئر رہنما ترون چُگ نے سونیا گاندھی کے بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کانگریس کی تاریخ کئی دہائیوں تک ذات پات، مذہب اور ووٹ بینک کی سیاست کے ذریعے ملک کو تقسیم کرنے سے عبارت رہی ہے۔
انہوں نے سونیا گاندھی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی جماعت کے دور حکومت میں سامنے آنے والے مختلف گھپلوں، ۱۹۸۴ کے مخالف سکھ فسادات اور بھوپال گیس سانحے پر بھی اپنی یادداشتوں میں روشنی ڈالیں۔
ترون چگ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ سونیا گاندھی بی جے پی اور این ڈی اے حکومت کے دور میں سناتن دھرم کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو برداشت نہیں کرپارہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)









