تو صاحبان، مہربان، قدردان، انجان اور نادان! آج کی تازہ اور ایک دم تازہ خبر یہ ہے کہ چائے کی پیالی میں جو طوفان آیا تھا، وہ تھم گیا ہے……. جن نادانوں نے چائے کی اس پیالی میں آئے طوفان سے کسی سونامی کے آنے کی پیش گوئی کی تھی، ان سب حضرات کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔ کہنے والوں کا کہنا ہے کہ این سی……. یعنی نیشنل کانفرنس میں اب سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے……. اپنے عامر خان کی زبان میں بولے تو All is well۔ سچ پوچھئے تو ایسا ہی ہونا بھی چاہیے، ورنہ حکمران جماعت کے ترجمان حضرات پتہ نہیں کیا کیا دلیلیں دے دے کر ہمارے اور آپ کے کان پکائیں گے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایک ترجمان صاحب آپریشن لوٹس کی بات کر رہے تھے، دوسرا کوئی اور سبق پڑھ اور پڑھا رہا تھا، جبکہ ان سب حضرات میں سے کوئی بھی اپنا اصل سبق پڑھنے کے لیے تیار نہیں تھا اور بالکل بھی نہیں تھا کہ اگر چائے کی پیالی میں طوفان آیا تھا تو کیوں آیا تھا؟ کہ……. کہ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے پہلے……. بزرگوں کا کہنا ہے کہ اپنے گریبان میں جھانکنا ضروری ہوتا ہے اور این سی اپنے گریبان میں جھانکنے کے لیے تیار نہیں تھی……. بالکل بھی نہیں تھی۔ کہ……. کہ یہ مجبور تھی، اس روایت کے ہاتھوں مجبور تھی، جس روایت میں این سی کی یہ روایت رہی ہے کہ یہ کبھی بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی……. بالکل بھی نہیں کرتی۔یقیناً ایسے بہت سارے لوگ موجود ہیں، جو نیشنل کانفرنس کے حصے بخرے دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن صاحب انہیں جس موقع کی تلاش تھی……. وہ انہیں این سی سے ہی ملا یا مل سکتا ہے۔ یہ شعلے کابینہ میں توسیع اور ردوبدل سے اٹھنے لگے، لیکن چنگاریاں پہلے سے موجود تھیں……. توسیع تو صاحب ایک بہانہ تھا کہ کابینہ میں کچھ ایک ایسے لوگوں کو بھی شامل کیا گیا جنہیں اگر اس سے دور ہی رکھا جاتا تو عمر عبداللہ کی سرکار کا کچھ نہ جاتا……. بالکل بھی نہ جاتا۔لیکن کہتے ہیں نا کہ ’وِناش کالے وِپریت بدھی‘، بس توسیع اور ردوبدل کے معاملے میں بھی این سی کی عقل گھاس چرنے گئی تھی……. اب اگر اس کا پیٹ بھر گیا ہوگا تو صاحب امید کی جانی چاہیے کہ حکمران جماعت وہ سب کچھ کرے گی……. بغیر کوئی وقت ضائع کیے کرے گی، جو اسے کرنا چاہیے، تاکہ چائے کی پیالی میں آیا طوفان واقعی میں تھم جائے، ختم ہو جائے۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔




