aجموں؍۲۶؍ اکتوبر
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پیر کے روز یہاں ڈوگرا چوک میں احتجاج کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے پر وزیر اعظم نریندر مودی کے مرحوم والد کے خلاف ’’غیر مہذب اور توہین آمیز‘‘ بیان دینے کا الزام عائد کیا۔
اتوار کو پٹنہ میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کیے گئے ایک تبصرے کے جواب میں کھڑگے نے مبینہ طور پر کہا، ’’مودی کا باپ بھی جائے گا۔‘‘ اس بیان پر بی جے پی کے سینئر رہنماؤں نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور کانگریس پر وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے خلاف ذاتی حملے کرنے کا الزام لگایا۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ کھڑگے نے ’’تمام آداب و تہذیب کی حدیں پار کر دی ہیں۔‘‘
بی جے پی کی رکن اسمبلی اور پارٹی کے یوتھ ونگ کی قومی نائب صدر شگن پریہار اور بھارتیہ جنتا یووا مورچہ (بی جے وائی ایم) کے جموں و کشمیر صدر ارون پربھات کی قیادت میں پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں اور رہنماؤں نے جموں کے ڈوگرا چوک میں ریلی نکالی۔
مظاہرین نے نعرے بازی کی اور کانگریس رہنماؤں، جن میں کھڑگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی شامل ہیں، کے پوسٹر نذرِ آتش کیے۔ انہوں نے سڑک پر مختصر دھرنا بھی دیا۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شگن پریہار نے کہا کہ کھڑگے کا بیان محض وزیر اعظم کے والد پر حملہ نہیں بلکہ ان بزرگوں کی بھی توہین ہے جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اگر وہ وزیر اعظم کے والد کا احترام نہیں کرتے تو ایک عام شہری کے والد کا احترام کیسے کریں گے؟‘‘ انہوں نے کانگریس پارٹی کی سخت مذمت کی۔
پریہار نے کہا کہ مودی نے خود کو قوم کے لیے وقف کر رکھا ہے اور قومی مفاد میں کام کیا ہے، اس لیے ان کے مرحوم والد کے بارے میں اس طرح کے بیانات انتہائی قابل اعتراض ہیں۔
پریہار نے کانگریس پر عدلیہ، الیکشن کمیشن آف انڈیا اور وزیر اعظم کے دفتر سمیت جمہوری و آئینی اداروں کے وقار کو مجروح کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
بی جے وائی ایم کے جموں و کشمیر صدر ارون پربھات نے کہا کہ کانگریس نے اس بیان کے ذریعے تمام حدیں پار کر دی ہیں اور وزیر اعظم کے خاندان کے تئیں مبینہ بے احترامی اور توہین کا ملک کے عوام کی جانب سے سخت جواب دیا جائے گا۔
پربھات نے کہا کہ کانگریس مایوسی کے عالم میں اس طرح کے بیانات دے رہی ہے اور اسے اس معاملے پر عوامی ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اطلاعات کے مطابق، اس معاملے پر سانبہ، کٹھوعہ، پونچھ، ادھم پور، راجوری، ڈوڈہ، کشتواڑ اور ریاسی اضلاع میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
۔۔۔۔(ایجنسیاں )









