نیویارک، 25 ستمبر (یو این آئی) اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ، ایران اور خطے کے دیگر علاقوں میں اسرائیل کی جنگوں کا جارحانہ انداز میں دفاع کیا اور نسل کشی کے الزامات کو مسترد کردیا۔ ان کے خطاب کے لیے روسٹرم پر پہنچتے ہی درجنوں سفارت کاروں نے فلسطینی وفد سے اظہار یکجہتی کے طور پر اجتماعی طور پر اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔
نیتن یاہو نے اس الزام کو مسترد کردیا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ’’نسل کشی کے بالکل برعکس‘‘ ہے۔ ان کے خطاب کے دوران سفارت کار فلسطینی وفد سے اظہار یکجہتی کے لیے منظم انداز میں اجلاس سے باہر نکلتے رہے۔
نیتن یاہو نے خطاب روکنے کے بجائے وہاں موجود افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’اگر کوئی اور اخلاقی بزدل یہاں موجود ہے جو ابھی تک اجلاس سے باہر نہیں گیا تو براہ کرم اب چلا جائے۔‘‘
نیتن یاہو نے اپنے آنجہانی بھائی یوناتان نیتن یاہو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’ہم جیتنے والے ہیں۔ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔‘‘ یوناتان نیتن یاہو 1976 میں اینٹی بی میں یرغمالیوں کو چھڑانے کی کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔
ان کی تقریر میں غزہ کی جنگ، مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد یا خطے کے دیگر تنازعات، جن میں ایران کے خلاف امریکہ کے ساتھ مشترکہ جنگ بھی شامل ہے، کے حوالے سے اسرائیل کی پالیسی میں کوئی خاص نئی بات سامنے نہیں آئی۔
نیتن یاہو نے اس الزام کو بھی سختی سے مسترد کیا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ ’’نسل کشی نہیں ہے بلکہ نسل کشی کے بالکل برعکس ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’لہٰذا ان تمام لوگوں سے جو میرے ملک اور ہمارے بہادر فوجیوں کے بارے میں یہ جھوٹ پھیلا رہے ہیں، خواہ وہ اس اجلاس میں بیٹھے ہوں یا نیویارک کے یہود مخالف میئر کے دفتر میں، میں صرف اتنا کہوں گا: آپ کو شرم آنی چاہیے!‘‘ اس طرح انہوں نے نیویارک شہر کے میئر زوہران ممدانی کو نشانہ بنایا۔










