اسلام آباد، 25 ستمبر (یو این آئی) پاکستان نے پاک-افغان سرحد پر افغان جانب سے ’’جارحیت کی کوشش‘‘ کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کو سرحد کے گلستان علاقے میں وقفے وقفے سے ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں طالبان کے متعدد افغان ارکان ہلاک ہوگئے اور لڑائی جاری ہے۔ تاہم، دونوں ممالک میں سے کسی کی جانب سے بھی اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
افغان حکومت نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ اسی روز افغانستان کے 10 مقامات پر پاکستانی فضائی حملوں کا ’’مناسب جواب‘‘ دے گی۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے جمعرات کو کہا تھا کہ یہ حملے بدھ کو پاکستان میں ڈرونز کے ذریعے کی گئی ’’جان بوجھ کر اور غیر قانونی دراندازی‘‘ کے جواب میں کیے گئے۔
تارڑ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پاکستان کے فضائی اور ڈرون حملوں میں ’’دہشت گردوں کے ٹھکانے اور معاون بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈرون لانچ کرنے اور ذخیرہ کرنے کے مقامات‘‘ کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس میں افغانستان میں کیے گئے فوجی حملوں کے مناظر ہیں۔
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستانی فضائی حملوں میں قندھار، پکتیا اور خوست صوبوں کو نشانہ بنایا گیا۔
طالبان حکام نے اس بات کی تردید کی کہ ان کی حکومت نے بدھ کو پاکستان کے خلاف ڈرون حملے کیے تھے۔
جمعرات کو کیے گئے فضائی حملے دونوں سابق اتحادیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ہوئے ہیں۔ پاکستان میں مسلح گروہوں کے حملوں کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان فروری میں کئی برسوں کی بدترین لڑائی ہوئی تھی۔
اسلام آباد کا الزام ہے کہ کابل ایسے جنگجوؤں کو پناہ دے رہا ہے جو سرحد پار سے پاکستان پر حملے کرتے ہیں، تاہم افغان حکومت پاکستان مخالف مسلح گروہوں کو پناہ دینے کی تردید کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ حملے پاکستان کا داخلی مسئلہ ہیں۔
اس تازہ کشیدگی سے چین، ترکی، قطر اور سعودی عرب کی جانب سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان دیرپا امن کے لیے جاری ثالثی کی کوششوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔










