سری نگر؍۲۵ستمبر
قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے جمعہ کو کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی پر بحث کے لیے تیار ہے، تاہم دفعہ۳۷۰ یا سال۲۰۰۰کی اٹانومی قرارداد پر بحث کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد ’’متنازع‘‘ ہے اور انہوں نے مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے پیش کی گئی نئی قرارداد میں سال۲۰۰۰کی اٹانومی قرارداد کو شامل کیے جانے پر سوال اٹھایا۔
شرما نے کہا، ’’آج وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد متنازع اور اختلافی ہے۔ بی جے پی نے اٹانومی قرارداد کو مسترد کردیا تھا اور اسے پھاڑ بھی دیا تھا۔ آج کی قرارداد میں اس قرارداد پر دوبارہ بحث کیوں کی جا رہی ہے؟‘‘
قائد اختلاف نے کانگریس پارٹی کے اٹانومی قرارداد اور دفعہ۳۷۰ سے متعلق موقف پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے اس سے وضاحت طلب کی کہ آیا وہ ان قراردادوں کے ساتھ ہے یا حکومت کے ساتھ۔
شرما نے کہا، ’’کانگریس کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے، راہل گاندھی سے لے کر ریاستی کانگریس کے سربراہ تک۔ کیا وہ اس قرارداد کے ساتھ ہیں؟ کیا وہ۱۹۵۳سے قبل کی قرارداد کے ساتھ ہیں؟ کیا وہ دفعہ۳۷۰ سے متعلق قرارداد کے ساتھ ہیں یا حکومت کے ساتھ ہیں؟‘‘
شرما نے عمر عبداللہ کے موقف پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ جب سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے اٹانومی قرارداد کو مسترد کیا تھا، اس وقت عمر عبداللہ مرکزی حکومت میں وزیر تھے۔
بی جے پی لیڈر نے سوال کیا، ’’جب بی جے پی نے اس قرارداد کو مسترد کرکے پھاڑ دیا تھا، تو کیا اس وقت عمر عبداللہ این ڈی اے میں وزیر نہیں تھے؟ کیا وہ اس کے بعد بھی این ڈی اے کے اتحادی نہیں رہے؟‘‘
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ حکومت حکمرانی سے متعلق مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ریاستی حیثیت کے معاملے کو استعمال کر رہی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بی جے پی ریاستی حیثیت پر بحث کے لیے تیار ہے۔
شرما نے کہا، ’’اگر آپ ریاستی حیثیت پر بحث کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو چیلنج کرتے ہیں۔ ہم ریاستی حیثیت پر بحث کے لیے تیار ہیں۔ لیکن آپ ریاستی حیثیت کے نام پر کشمیر کے لوگوں کو بے وقوف بنانا چاہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ حکومت اپنی ’’ناکامیوں کو چھپانے‘‘ اور ریاستی حیثیت کی بحالی کے معاملے کو طول دینے کے لیے اس مسئلے کو استعمال کر رہی ہے۔
شرما نے کہا، ’’بی جے پی اس قرارداد کو مسترد کرتی ہے۔ نام نہاد اٹانومی اور دفعہ۳۷۰ سے متعلق قرارداد کو بھی مسترد کرتی ہے اور ہم اس معاملے پر بحث کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘
قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ بی جے پی اس وقت تک اپنا احتجاج جاری رکھے گی جب تک کانگریس دفعہ۳۷۰ اور اٹانومی قرارداد کے بارے میں اپنا موقف واضح نہیں کرتی اور حکومت اس کے سوالات کا جواب نہیں دیتی۔
۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)










