کابل، 24 ستمبر (یو این آئی) پاکستانی فضائی حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے، افغان طالبان حکومت کے ترجمان نے یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان ’’مناسب جواب‘‘ دے گا۔
پاکستان نے جمعرات کو کہا کہ اس نے افغانستان میں ڈرونز کو ذخیرہ کرنے اور انہیں لانچ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے 10 مقامات پر فضائی حملے کیے، جن میں سے بعض ڈرونز پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں میں استعمال کیے گئے تھے۔
افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ فضائی حملے قندھار، پکتیا اور خوست صوبوں میں کیے گئے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قندھار شہر کے ایک رہائشی نے بتایا کہ جنوبی افغانستان کے شہر میں فضائی حملہ ہوا۔ رہائشی کے مطابق انہوں نے پہلے ایک جنگی طیارے کی آواز سنی، اس کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا اور پھر قندھار شہر کے وسط میں آگ بھڑک اٹھی۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ فضائی حملے ’’جان بوجھ کر، درست، متوازن اور متناسب‘‘ تھے اور انہیں صرف ان نشاندہی شدہ فوجی اہداف تک محدود رکھا گیا جو براہ راست پاکستان کے خلاف کیے جانے والے حملوں سے منسلک تھے۔
انہوں نے بدھ کو پاکستان میں ڈرونز کے ذریعے ہونے والی ’’جان بوجھ کر اور غیر قانونی دراندازی‘‘ کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا، ’’یہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور جارحیت کا ایک سنگین اور ناقابل قبول اقدام ہے۔‘‘
طالبان حکام نے اس بات کی تردید کی کہ ان کی حکومت نے بدھ کو پاکستان کے خلاف ڈرون حملے کیے تھے۔
جمعرات کے فضائی حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب پاکستان میں مسلح گروہوں کے حملوں پر سابق اتحادی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں فروری میں دونوں ممالک کے درمیان کئی برسوں کی بدترین لڑائی شروع ہوئی تھی۔
اسلام آباد کا الزام ہے کہ کابل ایسے جنگجوؤں کو پناہ دے رہا ہے جو سرحد پار حملے کرتے ہیں، تاہم افغان طالبان حکومت پاکستان مخالف مسلح گروہوں کو پناہ دینے کی تردید کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ حملے پاکستان کا داخلی مسئلہ ہیں۔
گزشتہ ہفتے شمال مغربی پاکستان میں ایک پولیس مرکز پر حملے میں کم از کم 21 افراد کی ہلاکت کے بعد تقریباً تین ماہ کی نسبتاً کشیدہ خاموشی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے نے دھماکے اور اس کے بعد ہونے والی فائرنگ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
پیر کو شمال مشرقی افغانستان میں تین مقامات کو نشانہ بنا کر کیے گئے فضائی حملوں میں کنڑ صوبے کے نرگل ضلع میں تین شہری ہلاک ہوئے تھے، افغان حکام نے بتایا تھا۔ اسلام آباد نے کہا تھا کہ اس کارروائی میں 28 ’’دہشت گرد‘‘ مارے گئے۔
اس تازہ کشیدگی سے چین، ترکی، قطر اور سعودی عرب کی جانب سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان دیرپا امن کے لیے جاری ثالثی کی کوششوں کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
فروری میں ہونے والی لڑائی کے بعد سے، جو کئی برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان بدترین لڑائی تھی، سابق اتحادیوں کے تعلقات مسلسل کشیدہ ہیں۔






