’ ایڈووکیٹ جنرل کی عدم موجودگی سے ان مختلف اداروں کے کام کاج پر بھی اثر پڑ رہا ہے جہاںایڈووکیٹ جنرل کا مخصوص کردار ہے‘
سری نگر؍۱۴ستمبر
جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے مستقل ایڈووکیٹ جنرل کی فوری تقرری سے متعلق مفادِ عامہ کی عرضی پر جموں و کشمیر حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے۲۱؍ اکتوبر تک جواب طلب کیا ہے۔
جموں و کشمیر میں ایڈووکیٹ جنرل کا اہم آئینی عہدہ تقریباً دو برس سے خالی ہے اور اس معاملے نے اب ہائی کورٹ کی توجہ بھی حاصل کرلی ہے۔
چیف جسٹس پشپیندر سنگھ بھاٹی اور جسٹس راجیش اوسوال پر مشتمل ڈویژن بینچ نے حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مشاہدہ کیا کہ اصولاً یہ آئینی عہدہ اگلی تاریخِ سماعت تک پُر ہوجانا چاہیے۔
یہ عہدہ سابق ایڈووکیٹ جنرل ڈی سی رائنا کے اکتوبر۲۰۲۴ میں استعفیٰ دینے کے بعد خالی ہوا تھا۔ دسمبر۲۰۲۵ میں حقِ اطلاعات کے تحت دی گئی ایک سرکاری وضاحت میں محکمہ قانون، انصاف و پارلیمانی امور نے کہا تھا کہ عہدہ خالی ہے اور نئے ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری کے لیے اس وقت تک کوئی تجویز شروع نہیں کی گئی تھی۔
جموں و کشمیر تنظیمِ نو قانون۲۰۱۹ کی دفعہ۷۹ کے تحت یونین ٹیریٹری کے ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری لیفٹیننٹ گورنر کرتے ہیں۔ قانون کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل حکومت کو قانونی معاملات میں مشورہ دینے کے ساتھ دیگر قانونی ذمہ داریاں بھی انجام دیتے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری میں تاخیر کے پس منظر میں حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر کے درمیان اختیارات اور قواعدِ کاروبار سے متعلق اختلافات کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ دسمبر۲۰۲۵کی ایک رپورٹ میں حقِ اطلاعات کے جواب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ڈی سی رائنا کا استعفیٰ بھی اس وقت تک باضابطہ طور پر منظور نہیں کیا گیا تھا اور نئے ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری کے لیے کوئی باقاعدہ تجویز زیر عمل نہیں تھی۔
اسی رپورٹ میں قواعدِ کاروبار سے متعلق اختلافات کو بھی تاخیر کا ایک پس منظر قرار دیا گیا تھا۔
اس معاملے میں دائر موجودہ مفادِ عامہ کی عرضی میں بھی اسی طویل تاخیر کے قانونی اور انتظامی اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مستقل ایڈووکیٹ جنرل کی عدم موجودگی سے نہ صرف حکومت کی قانونی نمائندگی سے متعلق امور متاثر ہوتے ہیں بلکہ ان مختلف اداروں کے کام کاج پر بھی اثر پڑ رہا ہے جہاں قانون کے تحت ایڈووکیٹ جنرل کا مخصوص کردار ہے۔
عرضی میں جموں و کشمیر ایڈووکیٹس ویلفیئر فنڈ ٹرسٹی کمیٹی کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ ایڈووکیٹ جنرل اس کے بطور عہدہ چیئرمین ہوتے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق عہدہ خالی رہنے سے اس قانونی ادارے کا کام بھی متاثر ہوا ہے۔
درخواست گزار نے ہائی کورٹ کے۴جون۲۰۲۵ کے ایک سابقہ فیصلے کا حوالہ بھی دیا، جس میں عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کے طویل عرصے تک موجود نہ ہونے کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے ضابطۂ دیوانی قانون کی دفعہ۹۲ کے تحت عوامی خیراتی اور مذہبی ٹرسٹ سے متعلق معاملات میں ایڈووکیٹ جنرل کے کردار کی اہمیت اجاگر کی تھی۔
موجودہ عرضی میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ حکومت کو قانون کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری کا عمل فوری طور پر شروع اور مکمل کرنے کی ہدایت دی جائے۔ درخواست گزار نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی مخصوص شخص کی تقرری کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ آئینی عہدے کو مزید خالی نہ رکھا جائے اور قانون کے مطابق تقرری عمل میں لائی جائے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں سال مئی میں بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ جموں و کشمیر حکومت اور مرکزی حکومت کے درمیان قواعدِ کاروبار سے متعلق اختلافات میں پیش رفت ہوئی ہے اور ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری کے لیے ایک تجویز بھی شروع کی گئی ہے۔ تاہم اس کے باوجود عہدے کی تقرری کے معاملے کو ہائی کورٹ کے سامنے آنے تک حتمی شکل نہیں دی جاسکی۔
یہ پورا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ جموں و کشمیر میں۲۰۱۹کے بعد انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں ہوئی ہیں اور ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری کا قانونی اختیار موجودہ نظام کے تحت لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے۔ دفعہ۷۹ کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل کا تقرر لیفٹیننٹ گورنر کرتے ہیں اور وہ یونین ٹیریٹری کی حکومت کے لیے اعلیٰ قانونی مشیر کا کردار ادا کرتے ہیں۔
اب نظریں۲۱؍ اکتوبر کی سماعت پر مرکوز ہیں، جب حکومت سے اس طویل تاخیر کے اسباب اور اب تک کیے گئے اقدامات کے بارے میں عدالت کے سامنے جواب پیش کرنے کی توقع ہے۔ عدالت کا موجودہ موقف اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ایک اہم آئینی عہدے کا اس قدر طویل عرصے تک خالی رہنا اب محض انتظامی تاخیر کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ اس کے قانونی اور ادارہ جاتی اثرات پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)








