نئی دہلی؍۱۴ستمبر
پاکستان نے جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی گرفتاری سے متعلق قابلِ اعتماد اطلاع فراہم کرنے والے شخص کے لیے انعامی رقم بڑھا کر۷۰ لاکھ پاکستانی روپے، یعنی بھارتی کرنسی میں تقریباً۲۴لاکھ ۹ہزار روپے کردی ہے۔
ادھر پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے مسعود اظہر کو اب بھی انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا اجلاس۲۶ سے۳۰؍اکتوبر تک پیرس میں ہونے والا ہے۔ اس اجلاس میں ان ممالک کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے جو دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ سے متعلق معاملات میں اضافی نگرانی کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔
اسلام آباد کئی برس سے یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ مسعود اظہر پاکستان میں موجود نہیں ہے اور دعویٰ کرتا رہا ہے کہ وہ افغانستان فرار ہو گیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود اس کا نام ایف آئی اے کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہے، جس میں۲۰۲۶کی ’’ریڈ بک آف موسٹ وانٹڈ ہائی پروفائل ٹیررسٹس‘‘ بھی شامل ہے۔
۵۸ سالہ مسعود اظہر جیشِ محمد کا بانی اور سربراہ ہے۔ پاکستان میں قائم اس دہشت گرد تنظیم پر گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارت میں کئی بڑے دہشت گرد حملے کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ اس تنظیم کا مرکز روایتی طور پر بہاولپور سے منسلک رہا ہے، جو ان مقامات میں شامل تھا جنہیں بھارت نے آپریشن سندور کے دوران شدید نشانہ بنایا تھا۔
مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بین الاقوامی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔
مسعود اظہر کا نام طویل عرصے سے بھارت کے سرحد پار دہشت گردی سے متعلق مؤقف میں نمایاں رہا ہے۔ جیشِ محمد پر۲۰۰۱ کے پارلیمنٹ حملے‘۲۰۰۸کے ممبئی حملوں‘۲۰۱۶ کے پٹھان کوٹ فضائی اڈے پر حملے اور۲۰۱۹ کے پلوامہ خودکش حملے سمیت کئی دہشت گرد واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
نومبر۲۰۲۵میں دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہونے والے دھماکے کے بعد بھی مسعود اظہر کا نام ایک بار پھر سامنے آیا تھا۔
مسعود اظہر ایک وقت میں بھارتی حراست میں تھا، تاہم دسمبر۱۹۹۹ انڈین ایئرلائنز کی پرواز آئی سی۸۱۴ کے اغوا کے بعد اسے رہا کردیا گیا تھا۔ پانچ دہشت گردوں نے کھٹمنڈو سے دہلی آنے والی اس پرواز کو ہائی جیک کرلیا تھا۔
طیارے کا رخ پہلے امرتسر، پھر لاہور اور دبئی کی جانب موڑا گیا اور بالآخر اسے افغانستان کے شہر قندھار لے جایا گیا، جہاں اس وقت طالبان کی حکومت تھی۔ طویل یرغمالی بحران کے بعد بھارت نے مسافروں کی رہائی کے بدلے مسعود اظہر اور دو دیگر قیدی دہشت گردوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
رہائی کے بعد مسعود اظہر نے۱۹۹۹۔۲۰۰۰ کے دوران جیشِ محمد کی بنیاد رکھی۔
مسعود اظہر آپریشن سندور میں بچ گیا، تاہم اس کارروائی کے دوران اس کے خاندان کے متعدد افراد مارے گئے۔۷ مئی کو پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارت نے دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے۹ مقامات پر حملے کیے تھے۔
اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں مسعود اظہر کے خاندان کے کم از کم۱۰؍ افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے چار قریبی ساتھی بھی مارے گئے۔
ہلاک ہونے والوں میں مسعود اظہر کی بڑی بہن، اس کا شوہر، ایک بھانجا، بھانجے کی اہلیہ، ایک بھانجی اور اس کے خاندان کے پانچ بچے شامل تھے۔
۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









