بہتر یہی ہے کہ آپ اس بارے میں ہم سے ہماری رائے نہ پوچھئے اور……. اور اس لیے نہ پوچھئے کہ اللہ میاں کی قسم، اس پر ہماری کوئی رائے نہیں ہے۔ یا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی بات پر کوئی رائے نہ رکھنا بھی ایک رائے ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر ایسا ہی سہی۔لیکن ہم پھر کہیں گے کہ سیاست دانوں کی اپنی زندگی، نجی زندگی بھی ہوتی ہے اور اس نجی زندگی میں وہ کیا کرتے ہیں اور کیا نہیں، یہ ان کا نجی اور ذاتی معاملہ ہے۔کم و بیش گزشتہ دو برسوں سے ہم گورے گورے بانکے چھورے، وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی بات کرتے رہے ہیں…….جب سے یہ جناب لولی لنگڑی اور آدھی ادھوری حکومت کے وزیراعلیٰ بن گئے، تب سے ہم ان کی بات کرتے رہتے ہیں…… ان کی حکومت کی ناکامیوں کی بات، ان کے نامکمل وعدوں کی بات،ان کی وعدہ خلافیوں کی بات‘ ان کی غیر سیاسی پختگی کی بات اور ان کی باتوں کی بات……. یہ سب ہم گزشتہ دو برسوں سے کرتے آئے ہیں۔حالیہ کچھ دنوں سے بھی ہم وزیراعلیٰ ہی کی بات کر رہے ہیں، لیکن موضوع ذرا ہٹ کے ہے۔ اس کا تعلق ان کی حکومت سے نہیں……. ان کے صحیح یا غلط طرزِ حکومت سے نہیں اور بالکل بھی نہیں۔ ایک الگ موضوع کے حوالے سے وزیراعلیٰ کی بات کر رہے ہیں……. تب سے کر رہے ہیں جب سے یہ جناب فلم فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں ایک خاتون کے ہمراہ یہ جلوہ افروز ہو گئے۔تب سے اپنے شہر کے گلی کوچوں، نکڑ‘چوراہوں اور نجی محفلوں میں اسی کی بات ہو رہی ہے……. صاحب، اب تو لوگوں کو بات کرنے سے روک نہیں سکتے ہیں……. اور یہ بھی سچ ہے کہ انہیں روکا بھی کیوں جائے؟ کہ ہم ایک آزاد ملک میں رہتے ہیں، یہاں ہر کسی کو اپنی بات سامنے رکھنے کی آزادی ہے۔اس لیے صاحب، ہم کسی کو اس بارے میں بات کرنے سے نہیں روک سکتے ہیں اور……. اور اس لیے بھی نہیں روک سکتے ہیں، کیوں کہ جس کے بارے میں یہ بات کر رہے ہیں، وہ آپ اور ہماری طرح کوئی عام خام آدمی نہیں بلکہ جموں و کشمیر کی لولی لنگڑی اور آدھی ادھوری حکومت کے وزیراعلیٰ ہیں……. اس لیے کچھ تو لوگ کہیں گے، لوگوں کا کام ہے کہنا۔لوگوں کا کام ہے کہنا اور یقیناً لوگوں کو کہنے سے کوئی نہیں روک سکتا، کہ یہ ایک آزاد ملک کے واسی ہیں……. اور ہاں صاحب، عمر عبداللہ بھی آزاد ملک کے واسی ہیں……. بعد میں ہمارے اور آپ کے وزیراعلیٰ ہیں۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔









