تجارت و صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے جمعرات کے روز برکس ممالک سے سب کے لیے قرض اور منڈیوں کی آسانی نیز تجارت کے واضح قوانین کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بین الاقوامی تجارت میں خاتون صنعتکاروں اور خواتین کی قیادت والے کاروبار کے لیے مواقع بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنے کا مطالبہ کیا۔
پیوش گوئل نے کہا کہ برکس تجارتی وزراء نے رہنماؤں کی منظوری کے لیے ‘برکس اقتصادی شراکت داری 2030’ کی حکمت عملی کی بھی سفارش کی تھی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ برکس رہنماؤں کی سربراہ کانفرنس سے زیادہ ٹھوس ایجنڈا، ورک پلان اور نتائج سامنے آئیں گے اور 2030 آنے والے برسوں اور دہائیوں میں طویل المدتی شراکت داری کی سمت میں پہلا قدم ثابت ہوگا۔
پیوش گوئل نے 2030 تک کے لیے غور کرنے کے لیے چار ٹھوس تجاویز رکھیں۔ قرض کی سہولت تک رسائی کے معاملے میں، انہوں نے برکس ویمن بزنس الائنس سے کہا کہ وہ اننت گوئنکا اور ان کے ساتھیوں کی قیادت والی برکس بزنس کونسل کے ساتھ مل کر یہ یقینی بنائیں کہ انوائس ڈسکاؤنٹنگ پلیٹ فارم پر ہونے والے مطالعے میں خاتون برآمد کنندگان کی اصل ضروریات کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے حکومتوں، بینکوں اور ایگزِم بینکوں سے بھی قرض دینے کا فیصلہ کرتے وقت ایسے انوائس پر غور کرنے کی التجا کی اور جے پورمیں قائم ہوئے اتفاقِ رائے میں زور دیے گئے ویمن ایڈوانسمنٹ فنڈ کی تجویز کو ایک ٹھوس پہل میں بدلنے کی بات کہی۔ انہوں نے خریداروں تک رسائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے برکس کے رکن اور اتحادی ممالک کی خواتین کی ملکیت والے اداروں سے التجا کی کہ وہ برکس کی نمائشوں، میلوں اور فورمز کے ساتھ ساتھ خریدار-فروخت کنندہ میٹنگوں میں بھی زیادہ حصہ لیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ہر سال پیش رفت کی رپورٹ دی جانی چاہیے، جس میں یہ بتایا جائے کہ کون سے کاروبار کامیاب رہے، کون سے نہیں اور کن شعبوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان، برکس ممالک کے درمیان باہمی ربط کو فروغ دینے والی خواتین کی قیادت والی پہل قدمیوں پر اپنا تجربہ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔
پیوش گوئل نے گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) کے ذریعے سرکاری خریداری میں ہندوستان کے تجربے کا بھی ذکر کیا۔ اس پلیٹ فارم پر مرکز، ریاست اور مقامی حکومتوں کو شفاف طریقے سے اشیاء اور سروسز خریدنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور خریداری کے مواقع تمام کے دیکھنے کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور مقامی سطح پر حکومت کو اشیاء اور سروسز فراہم کرنے کے لیے خواتین کی قیادت والے اداروں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور انہیں حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، ان اداروں کا سرکاری خریداری میں بہت بڑا حصہ ہے۔
خاتون صنعتکاروں کی بڑھتی رسائی کی مثال دیتے ہوئے، پیوش گوئل نے کہا کہ نئی دہلی سے تقریباً 2,500 کلومیٹر دور واقع خاتون صنعتکار اب وزارتِ تجارت یا وزیراعظم کے دفتر کو چھوٹے چھوٹے آرڈر (کبھی کبھی تقریباً 100 ڈالر مالیت کے) بھی فراہم کرنے کے اہل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خاتون صنعتکاروں کے طے کردہ طویل سفر کو ظاہر کرتا ہے۔
ہندوستان کی ‘ون ڈسٹرکٹ، ون پروڈکٹ’ پہل کا ذکر کرتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ ہندوستان میں تقریباً 780 اضلاع ہیں اور ہر ضلع میں فروغ دینے کے لیے ایک، دو یا تین پروڈکٹس کی شناخت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل اب سروسز کے شعبے میں بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اتر پردیش کے خاص کھانے پینے کی شناخت کرنے والی پہل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کھانے پینے اور ذائقے میں تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے، یہاں کے مختلف پروڈکٹس، ذائقے، مصالحے اور ان کے امتزاج میں دنیا بھر کی منڈیوں میں کاروبار کا بڑا موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اضلاع میں شناخت کیئے گئے پروڈکٹس، سروسز اور کھانے پینے کی اشیاء کو ریاستی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ عالمی منڈیاں تیار کی جا سکیں اور اضلاع کو برآمدات کا ہب بنایا جا سکے۔
پیوش گوئل نے کہا کہ تازہ ہندوستانی پھلوں اور سبزیوں کی دنیا بھر میں بڑھتی مانگ، خاص طور پر خلیجی ممالک سے، جہاں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی رہتے ہیں، چھوٹے کسانوں اور خاتون صنعتکاروں کے لیے عالمی منڈی کے حساب سے غذائی مصنوعات کی کوالٹی پیکجنگ، ڈیزائننگ اور پروسیسنگ کے بڑے مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس ممالک کے درمیان زیادہ ربط سے خواتین کے گروپس اور خواتین کی قیادت والی منڈیاں بنانے میں مدد مل سکتی ہے، تاکہ ان کی مصنوعات اور سروسز کو فروغ دیا جا سکے۔
پیوش گوئل نے قوانین اور طریقہ کار کے بارے میں حصہ لینے والوں سے کہا کہ وہ ان دستاویزات، سرٹیفکیٹس، طریقہ کار اور طور طریقوں کی شناخت کریں، جو انہیں کاروبار کرنے یا اپنا کام کرنے سے روکتے ہیں یا ان میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے تجربے پر مبنی عملی معلومات حکومتوں اور پالیسی سازوں کو طریقہ کار اور طور طریقوں کو درست شکل دینے، کاغذی کارروائی کم کرنے اور پالیسیوں کو بہتر بنانے میں مدد کرے گی، جس سے کاروبار کرنا آسان ہو سکے گا۔ انہوں نے شرکاء سے کہا کہ وہ نہ صرف مسئلے کے بارے میں بتائیں، بلکہ اس حل کے بارے میں بھی بتائیں، جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسئلے کے ساتھ کوئی تجویز یا کارروائی کی تجویز بھی ہو، تو حکومتوں کے لیے اس پر کام کرنا آسان ہو جائے گا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ ہندوستان کی اشیاء کی تجارت میں اضافے کی بہت گنجائش ہے اور آنے والے سالوں میں جو خواتین برآمدات کا کام کر رہی ہیں، وہ اپنے کاروبار کو کئی گنا بڑھا لیں گی۔
صنعتکاروں سے چیلنجوں کو مواقع میں بدلنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ دنیا میں اتھل پتھل اور بین الاقوامی تجارت میں سست روی کے باوجود، مالیاتی سال کے ابتدائی پانچ مہینوں (اپریل سے اگست) میں ہندوستان کی اشیاء کی برآمدات میں 15 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے عالمی چیلنجوں کو اپنے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیا، بلکہ ان میں مواقع تلاش کیے اور موجودہ مشکل حالات کے باوجود اس سال کے لیے بڑے اہداف طے کیے۔
پیوش گوئل نے ہندوستان کی اقتصادی ترقی کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اپریل سے جون کی پہلی سہ ماہی میں مستحکم قیمتوں پر معیشت میں 7.8 فیصد کا اضافہ ہوا، جو دنیا میں سب سے زیادہ ترقی کی شرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنی اصل صلاحیت کو پہچان رہا ہے اور مضبوطی و اعتماد کے ساتھ دنیا کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب دنیا کے ساتھ جڑنے سے نہیں ڈرتا اور گلوبلائزیشن اور بین الاقوامی تجارت کے لیے اپنے دروازے اور زیادہ کھولنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان ایمانداری سے تجارت کرنے اور تجارت میں اعلیٰ اخلاقی معیار اپنا کر، عالمی مسابقتی ماحول میں بڑے مواقع دیکھتا ہے۔
پیوش گوئل نے کہا کہ ہندوستان نے آج کی چار لاکھ کروڑ ڈالر کی معیشت سے بڑھ کر 2047 تک 30 لاکھ کروڑ ڈالر کی معیشت بننے کا ہدف رکھا ہے، جب ملک اپنی آزادی کے 100 سال پورے کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس ہدف کو ایک روڈ میپ کی تائید حاصل ہے، جس میں ہر حصے کے لیے ذمہ داریاں طے کی گئی ہیں اور انہوں نے اسے 1.4 ارب ہندوستانیوں کا اجتماعی عزم بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک خواتین کی قیادت والی پہل قدمیوں کے ذریعے اسے حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔






