نہیں صاحب، یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے۔ یقین نہیں آ رہا ہے تو آپ کوشش کیجیے، اور کوشش کرکے ہمیں بتائیے گا کہ کیا آپ نے کشمیر کی سیاست کو سمجھا، اس کے صحیح سیاق و سباق میں سمجھا……. ہمارا دعویٰ نہیں بلکہ یقین ہے کہ آپ نہیں سمجھ پائیں گے، بالکل بھی نہیں سمجھ پائیں گے۔ایسا نہیں ہے، اور بالکل بھی نہیں ہے کہ آپ ناسمجھ ہیں……. نہیں صاحب، ہماری تو توبہ! ہم اتنے گستاخ ہیں اور نہ ہم ایسی گستاخی کر سکتے ہیں۔اصل میں کشمیر کی سیاست ہی کچھ اس قدر پیچیدہ ہے، یا اسے پیچیدہ بنایا گیا ہے، جان بوجھ کر بنایا گیا ہے کہ……. کہ اسے سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ کئی تہوں میں لپٹی ہوئی ہے، اس کے کئی layers ہیں؛ ایک کے اوپر ایک، ایک کے نیچے ایک۔کوشش کیجیے، بدھ کو لال چوک سے سول سیکریٹریٹ تک جو کچھ بھی ہوا، اسے سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ یہ سمجھنے کی کہ کون کس کے خلاف احتجاج کر رہا تھا…….کس کو پولیس کی اجازت تھی اور کس کو پولیس، اپنے وزیراعلیٰ کے الفاظ میں، گھسیٹ کر لے گئی……. کیسے بی جے پی لوگوں کی بھیڑ جمع کرنے میں کامیاب رہی، اور کیسے این سی……. حکمران جماعت این سی……. احتجاج کے لیے بڑی تعداد کو شامل نہیں کر پائی۔کیا یہ بی جے پی اور این سی میں کوئی فکسڈ میچ تھا، جیسا کہ اپنی محبوبہ صاحبہ کا کہنا ہے، یا پی ڈی پی اور بی جے پی میں کوئی یارانہ ہے جو دونوں این سی کو نشانہ بنا رہی ہیں؟کیا بی جے پی کو یہ معلوم نہیں کہ عمر عبداللہ سرکار کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں؟ لیکن پھر وہ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلی۔ اور کیا این سی کو یہ خبر نہیں کہ سڑکوں پر نکلنے سے ریاستی درجے کی بحالی ہونے سے رہی؟ لیکن پھر وہ سڑکوں پر نکلی۔نہیں صاحب، رکیے……. ابھی بات ختم نہیں ہوئی۔جب کشمیر کی سیاست کی بات ہوتی ہے تو بات ختم نہیں ہوتی ہے۔ انسان ختم ہوتے ہیں، لیڈر ختم ہوتے ہیں، لیڈروں کی ساکھ، ان کی اعتباریت ختم ہوتی ہے، لیکن کشمیر کی سیاست کی بات ختم نہیں ہوتی۔ کہ اللہ میاں کی قسم، اس سیاست……. کشمیر کی سیاست نے کشمیر کو ہی ختم کیا ہے، لیکن اس کی بات ختم نہیں ہوتی ہے۔ایسی بات، یا باتیں، جسے سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے۔ہے نا؟



