اپوزیشن جماعت کا عمر عبداللہ حکومت پر انتخابی وعدے پورے نہ کرنے کا الزام/’ریاستی درجہ مناسب وقت پر بحال کیا جائیگا‘
سرینگر؍۲ستمبر
جموں و کشمیر میں۲۰۱۹ میں آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی کے بعد بدھ کے روز پہلی مرتبہ حکمران نیشنل کانفرنس (این سی) اور اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بڑے سیاسی احتجاج کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے اور ایک دوسرے پر جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے کے الزامات عائد کیے۔
نیشنل کانفرنس نے مرکز پر جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ پورا نہ کرنے کا الزام لگایا، جبکہ بی جے پی نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو اس کے انتخابی وعدے پورے نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
نیشنل کانفرنس کے وزرا، ارکان اسمبلی، رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد راج باغ کے گندن اسپورٹس کمپلیکس کے قریب جمع ہوئی، جہاں سے پارٹی نے ریاستی درجہ بحال کرنے میں تاخیر کے خلاف بی جے پی کے جواہر نگر میں واقع دفتر کا گھیراؤ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔تاہم پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو جواہر نگر کی جانب بڑھنے سے روک دیا۔ نیشنل کانفرنس نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے اس کے ارکان اسمبلی کے ساتھ بدسلوکی کی۔
این سی نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’جے کے این سی کے پُرامن احتجاج کو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔ لوگوں کو شامل ہونے سے روکا گیا اور منتخب نمائندوں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ لیکن جب بی جے پی نے سیکریٹریٹ کے باہر احتجاج کیا تو اسے آگے بڑھنے دیا گیا۔ کتنے افسوس کی بات ہے!‘‘
این سی کے رکن اسمبلی اور چیف ترجمان تنویـر صادق نے کہا کہ بی جے پی نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔انہوں نے صحافیوں سے کہا، ’’ریاستی درجہ کہاں ہے؟ انتخابات کو دو سال ہو چکے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سے کیا گیا وعدہ پورا کیا جائے۔‘‘
۵ ؍اگست۲۰۱۹کو مرکز کی جانب سے واپس لیے گئے ریاستی درجے اور دیگر آئینی ضمانتوں کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے تنویر صادق نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اس وقت تک احتجاج جاری رکھے گی جب تک ’’جو ہم سے چھینا گیا ہے، وہ واپس نہیں کیا جاتا۔‘‘
دوسری جانب بی جے پی نے بھی عمر عبداللہ کی قیادت والی جموں و کشمیر حکومت کی مبینہ ’’ناکامی‘‘ کے خلاف بڑا احتجاج کیا۔بی جے پی رہنماؤں اور کارکنوں کی سیکڑوں تعداد لال چوک کے گھنٹہ گھر کے قریب جمع ہوئی اور این سی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔
مظاہرین نے جموں و کشمیر حکومت کے مرکز سول سیکریٹریٹ کا گھیراؤ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم پولیس نے انہیں ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ کے قریب روک دیا۔اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن حکومت ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے احتجاج کے چار اہم مسائل ہیں: منصفانہ بھرتی کے بجائے ملازمتیں ’’فروخت‘‘ کرنا، بلدیاتی انتخابات نہ کرانا، ’’بے لگام بدعنوانی‘‘ اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ۔شرما نے عمر عبداللہ اور ان کی جماعت پر صرف ریاستی درجے کے مسئلے کو دہرانے اور طرزِ حکمرانی پر توجہ نہ دینے کا الزام بھی عائد کیا۔
وزیراعلیٰ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بی جے پی رہنما نے سوال کیا کہ کیا عوام نے انہیں ’’شہزادے کی طرح زندگی گزارنے اور گلمرگ و پہلگام میں اسکیئنگ کرنے‘‘ کے لیے منتخب کیا ہے؟انہوں نے عمر عبداللہ کو چیلنج دیا کہ وہ اپنے آبائی حلقہ گاندربل سے استعفیٰ دیں اور جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے مسئلے پر دوبارہ عوام سے مینڈیٹ حاصل کریں۔
شرما نے کہا، ’’اگر آپ میں کچھ خودداری باقی ہے تو ریاستی درجے کے مسئلے پر انتخابات لڑیں۔ اگر عوام آپ کو دوبارہ منتخب کرتے ہیں تو ہم تسلیم کریں گے کہ ریاستی درجہ واقعی آپ کا مسئلہ ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی درجے کا مسئلہ دراصل بی جے پی کا ہے کیونکہ اس نے جموں و کشمیر کے عوام سے مناسب وقت پر ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا رکن ست شرما نے کہا کہ بی جے پی کا ’’بڑا‘‘ احتجاج وزیر اعلیٰ کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں یا استعفیٰ دیں۔
بی جے پی مظاہرین کو لال چوک اور ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ تک جمع ہونے کی اجازت دیے جانے کے بعد نیشنل کانفرنس نے انتظامیہ پر زعفرانی جماعت کو سہولت فراہم کرنے کا الزام عائد کیا۔
این سی نے ’ایکس‘ پر کہا، ’’دو احتجاجوں کی دو کہانیاں۔ ایک کو سہولت دی گئی اور آزادانہ طور پر اجازت دی گئی، دوسرے کے ساتھ سختی کی گئی اور اسے محدود کر دیا گیا۔ انتظامیہ ایک، رویہ مختلف۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ اگست۲۰۱۹کے بعد جموں و کشمیر میں زیادہ تر سیاسی احتجاج کو سڑکوں پر آنے کی اجازت نہیں دی جاتی رہی ہے۔
اسی تناظر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ پولیس کے مبینہ دوہرے معیار پر سوال اٹھایا۔
محبوبہ مفتی نے ’ایکس‘ پر کہا کہ جو پولیس پی ڈی پی کو عوامی مسائل پر پُرامن احتجاج کے لیے اپنے دفتر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دیتی، اسی پولیس نے بی جے پی اور این سی دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف احتجاج کرنے میں سہولت فراہم کی۔
محبوبہ نے کہا کہ اس ’’واضح دوہرے معیار‘‘ کی وضاحت ہونی چاہیے کہ ان منتخب پابندیوں کی منظوری کون دیتا ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں پر قانون کا اطلاق مختلف انداز میں کیوں کیا جا رہا ہے۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے این سی اور بی جے پی کے احتجاج کو ایک سیاسی تماشہ اور ’’فکس میچ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں حکمرانی کی ناکامی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے درمیان دونوں جماعتیں ان لوگوں کے ساتھ ’’فکس میچ‘‘ کھیلتی دکھائی دے رہی ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ دیا تھا۔انہوں نے کہا، ’’لیکن عوام تماشائی نہیں ہیں، انہیں سب یاد رہتا ہے۔‘‘
پرہ نے کہا کہ بدھ کے احتجاج جموں و کشمیر میں حکمرانی اور سیاسی عمل کی ناکامی کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ اتنے مضبوط مینڈیٹ کے باوجود دونوں جماعتوں کا سڑکوں پر احتجاج کرنا حیران کن ہے۔انہوں نے مزید سوال کیا، ’’جب ایک منتخب حکومت کو خود احتجاج کرنے پر مجبور ہونا پڑے تو یہ ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے—کیا کشمیریوں اور جموں کے لوگوں سے اب توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے منتخب حکومت سے آگے دیکھیں تاکہ مسائل کا حل تلاش کر سکیں، اپنے حقوق کا تحفظ کریں اور جواب دہ حکمرانی کا مطالبہ کریں؟‘‘
جموں میں بھی نیشنل کانفرنس کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا جب وہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر ترکوٹہ نگر میں واقع بی جے پی ہیڈکوارٹر کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
جموں صوبائی صدر رتن لال گپتا کی قیادت میں این سی کارکن ترکوٹہ نگر مارکیٹ میں جمع ہوئے اور بی جے پی ہیڈکوارٹر کی طرف بڑھنے لگے، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
مظاہرین نے رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
۔۔۔۔
(ندائے مشرق خبر)









