سرینگر؍۳ستمبر
جموں و کشمیر کے آن لائن حقِ اطلاعات(آر ٹی آئی)پورٹل پر آغاز کے بعد۱۹ ماہ کے دوران۶۵ ہزار سے زائد آر ٹی آئی درخواستیں اور۹ہزار سے زائد پہلی اپیلیں موصول ہوئی ہیں، جو یونین ٹیریٹری کے شہریوں کی جانب سے معلومات کے حصول کے لیے آن لائن طریقۂ کار کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہیں۔
یہ اعداد و شمار جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ(جی اے ڈی)نے جموں سے تعلق رکھنے والے آر ٹی آئی کارکن رمن کمار شرما کی جانب سے دائر کی گئی آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں فراہم کیے ہیں۔
۲۷ ؍اگست کو جاری کیے گئے سرکاری جواب کے مطابق جموں و کشمیر کا آر ٹی آئی آن لائن پورٹل۱۰ جنوری۲۰۲۵کو باضابطہ طور پر شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد شہریوں کو آن لائن آر ٹی آئی درخواستیں دائر کرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
جی اے ڈی نے بتایا، ’’دستیاب ریکارڈ کے مطابق۱۰ جنوری۲۰۲۵ سے۲۶؍ اگست۲۰۲۶ تک پورٹل پر۶۵ہزار۲۴۳آر ٹی آئی درخواستیں موصول ہوئیں۔‘‘ اسی عرصے کے دوران ۹ہزار۳۳پہلی اپیلیں بھی موصول ہوئیں۔
جموں و کشمیر کا یہ پورٹل وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے۲۰۲۵ میں شروع کیا تھا، جبکہ مرکزی حکومت کا آن لائن آر ٹی آئی پورٹل۲۰۱۳ سے فعال ہے۔
پورٹل پر شامل سرکاری محکموں، مرکزی عوامی اطلاعاتی افسران اور پہلی اپیلیٹ اتھارٹیز کی تعداد سے متعلق سوال کے جواب میں جی اے ڈی نے کہا کہ آر ٹی آئی درخواستیں آر ٹی آئی ایکٹ۲۰۲۵ کی دفعہ۶(۳) کے تحت مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کے لیے نیشنل انفارمیٹکس سینٹر جموں و کشمیر کو منتقل کی جاتی ہیں۔
محکمے کے مطابق سرکاری اداروں، سی پی آئی اوز یا پہلی اپیلیٹ اتھارٹیز کو پورٹل پر شامل کرنے کا طریقہ کار آر ٹی آئی ایکٹ۲۰۰۵ کی متعلقہ دفعات کے مطابق ہے۔جی اے ڈی نے کہا کہ سرکاری اداروں کی فہرست اور نوڈل افسران کی تفصیلات آر ٹی آئی پورٹل پر دستیاب ہیں۔
آر ٹی آئی کارکن رمن کمار شرما نے کہا کہ نسبتاً مختصر عرصے میں موصول ہونے والی درخواستوں کی بڑی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہری آن لائن آر ٹی آئی نظام پر تیزی سے انحصار کر رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ آر ٹی آئی پورٹل پر مزید سرکاری اداروں کو شامل کیا جائے، خصوصاً ضلع، تحصیل اور بلاک سطح کے دفاتر کو۔
شرما نے محکمہ تعلیم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ جموں اور کشمیر دونوں ڈویژنوں میں ڈائریکٹوریٹ سطح کے پی آئی اوز آر ٹی آئی پورٹل پر دستیاب ہیں، تاہم چیف ایجوکیشن آفیسرز کے دفاتر اس نظام میں شامل نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہی صورتحال پولیس اور دیہی ترقی محکمہ کے ضلعی دفاتر کے ساتھ بھی ہے۔
شرما نے کہا، ’’جی اے ڈی کو نئے اداروں کو پورٹل پر شامل کرنے کے لیے ایک واضح اور شفاف پالیسی یقینی بنانی چاہیے، بجائے اس کے کہ مبہم جوابات دیے جائیں یا درخواستوں سے متعلق سوالات این آئی سی کو منتقل کر دیے جائیں۔‘‘
انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بالخصوص نچلی سطح کے سرکاری دفاتر کو پورٹل پر شامل کرنے کا عمل تیز کیا جائے تاکہ عام شہری آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت دی گئی شفافیت کے وعدے سے حقیقی طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)










