جمعرات, ستمبر 3, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

امتیازی سلوک ؟’بی جے پی کو سہولت، این سی کو کچلا گیا‘

اپوزیشن کو احتجاج کی اجازت ملی‘ہمیں گھسیٹا گیا :عمرعبداللہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-03
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری, مقامی خبریں
A A
گریز میں ہماری ریلی پر حملے میں بی جے پی ملوث:این سی
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

سرینگر؍۲ ستمبر

            جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز پولیس اور انتظامیہ پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل کانفرنس (این سی) کے احتجاج سے نمٹنے میں دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی رہنماؤں کو احتجاج کے دوران سہولت فراہم کی گئی، جبکہ ان کی جماعت کے کارکنوں کو گھسیٹا گیا۔

            صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ بدھ کے روز سول سیکریٹریٹ کی جانب مارچ کے دوران پولیس نے بی جے پی رہنماؤں کو ’’سہولت فراہم‘‘ کی، جبکہ نیشنل کانفرنس کے ساتھیوں کو ’’بے رحمی سے کچلا گیا‘‘۔

متعلقہ

این سی اور بھاجپا کا ایک دوسرےکیخلاف احتجاج

۲۰۲۵ میں سرکاری اداروں کے خلاف بدعنوانی کی۷۰ہزار سے زائد شکایات موصول

            وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’آپ نے وہ احتجاج دیکھا جسے روک دیا گیا۔ اس سے آج جموں و کشمیر کی صورت حال واضح ہوتی ہے: اگر آپ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اجازت ہے؛ اگر آپ سیکریٹریٹ کا گھیراؤ کرنا چاہتے ہیں تو اجازت ہے؛ لیکن اگر آپ بی جے پی کے دفتر کے باہر احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو خدا نہ کرے، آپ کو اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ پولیس صرف بی جے پی کی عزت بچانے کے لیے موجود ہے، اسے کسی اور چیز کی پروا نہیں۔‘‘

            عمر عبداللہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پولیس نے ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کے مظاہرین کو جواہر نگر میں واقع بی جے پی کے ہیڈکوارٹر کی جانب مارچ کرنے سے روک دیا۔ این سی رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد راج باغ کے گنڈن اسپورٹس کمپلیکس کے قریب جمع ہوئی تھی۔

            دوسری جانب بی جے پی نے بھی جموں و کشمیر حکومت کی مبینہ ’’ناکامی‘‘ کے خلاف بڑے احتجاج کا انعقاد کیا، جس میں پارٹی کے سیکڑوں کارکن لال چوک کے کلاک ٹاور کے قریب جمع ہوئے۔

            بی جے پی مظاہرین نے جموں و کشمیر حکومت کے مرکز، سول سیکریٹریٹ کا گھیراؤ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم پولیس نے انہیں ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ کے قریب روک دیا۔

            عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے بی جے پی کے احتجاجی مارچ کے دوران صحافیوں کو پارٹی رہنماؤں سے بات چیت کرتے ہوئے ویڈیوز میں دیکھا۔

            انہوں نے صحافیوں سے کہا، ’’میں نے آپ میں سے بہت سے لوگوں کو اس احتجاج میں شامل دیکھا۔ جس آسانی سے آپ اپوزیشن لیڈر (سنیل شرما) کا انٹرویو کر سکے، وہ سب نے دیکھا۔ آپ نے دیکھا کہ بی جے پی کو احتجاج کی اجازت دی گئی، جبکہ این سی کو نہیں دی گئی۔‘‘

            انہوں نے مزید کہا، ’’لہٰذا براہ کرم دونوں کو برابر نہ سمجھیں۔ ایک جانب سہولت فراہم کی گئی، دوسری جانب بے رحمی سے دبایا گیا۔ میرے ساتھیوں کو گھسیٹا گیا اور وہ زخمی ہوئے، جن میں سے بعض کو اسپتالوں میں علاج کروانا پڑا۔‘‘

            سنیل شرما کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے استعفے کے مطالبے پر عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کے مستعفی ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’میں استعفیٰ کیوں دوں؟ کیا ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا اس حکومت کو ریاستی درجہ دینے کا کوئی ارادہ نہیں؟ اگر ایسا ہے تو ہم مرکز سے یہ بات براہ راست کیوں نہیں سن رہے؟ اگر وہ واقعی آئین کو تار تار کرنا، سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کی توہین کرنا اور مودی کے وعدے کو جھوٹا ثابت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ایسا کرنے دیں۔ میں صرف اپوزیشن لیڈر کو خوش کرنے کے لیے استعفیٰ نہیں دینے والا۔‘‘

            وزیراعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے ان کی جماعت کو پانچ سال کے لیے مینڈیٹ دیا ہے اور وہ عوام کے سامنے اپنی حکومت کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کریں گے۔

’کرپشن کی تحقیقات کا اختیار بھی میرے پاس نہیں‘

            کرپشن کے الزامات پر عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی حکومت کے پاس تحقیقات کرانے کا اختیار بھی نہیں ہے۔

انہوں نے سوال کیا، ’’اگر بیک ڈور تقرریاں ہوئی ہیں تو کس ادارے نے ان کی تحقیقات کی؟ وہ کسی ایک کا نام بتائیں۔ اینٹی کرپشن بیورو میرے کنٹرول میں نہیں، کرائم برانچ میرے کنٹرول میں نہیں، سی آئی ڈی میرے کنٹرول میں نہیں، مرکزی ایجنسیاں تو دور کی بات ہے۔ بتائیں، کہاں ایف آئی آر درج ہوئی؟‘‘

            عمر عبداللہ نے بی جے پی پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس کے پاس کہنے کے لیے کوئی اور بات نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم ان کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور انہیں درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن احتجاج وہی کر رہے ہیں۔‘‘

            آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان پر کہ مسلمانوں کو کم تر نہیں سمجھا جا سکتا، عمر عبداللہ نے کہا کہ اس بات کو عملی طور پر بھی نافذ کیا جانا چاہیے۔بھاگوت نے حال ہی میں نیویارک میں بھارتی نژاد امریکی برادری کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے تو ’’وہ ہندو نہیں رہے گا۔‘‘

            عمر عبداللہ نے کہا، ’’بیان دینا ایک بات ہے اور اسے عملی جامہ پہنانا دوسری بات۔ حقیقت یہ ہے کہ آر ایس ایس سربراہ نے جو کہا وہ اچھا لگا، لیکن اس کا اثر زمین پر بھی نظر آنا چاہیے۔‘‘

            سپریم کورٹ کی جانب سے طلبہ مظاہرین کے خلاف تمام ایف آئی آر منسوخ کیے جانے سے متعلق سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کافی عرصے سے دفاعی پوزیشن میں ہے۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’جب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا آغاز ہوا اور جنرل زیڈ نے معاملہ آگے بڑھایا، بی جے پی دفاعی پوزیشن میں ہے۔ دیکھتے ہیں کہ وہ کب تک دفاعی پوزیشن میں رہتی ہے۔‘‘

            سپریم کورٹ نے منگل کے روز۲۰ سے۲۵ جولائی کے درمیان ملک بھر میں ’سی جے پی‘ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج میں حصہ لینے والے طلبہ کے خلاف درج تمام ایف آئی آر منسوخ کر دی تھیں، جس کے بعد گروپ نے۵ ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والا مارچ منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔

            چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی میں بنچ نے مرکز کو یہ ہدایت بھی دی کہ نیٹ پرچے کے مبینہ لیک معاملے پر اپنی جان لینے والے طلبہ کے اہل خانہ کو تین ماہ کے اندر معاوضہ فراہم کیا جائے۔

۔۔۔۔(ویب ڈیسک)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

۲۰۲۵ میں سرکاری اداروں کے خلاف بدعنوانی کی۷۰ہزار سے زائد شکایات موصول

Next Post

این سی اور بھاجپا کا ایک دوسرےکیخلاف احتجاج

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

امتیازی سلوک ؟’بی جے پی کو سہولت، این سی کو کچلا گیا‘
اہم ترین

این سی اور بھاجپا کا ایک دوسرےکیخلاف احتجاج

2026-09-03
۲۰۲۵ میں سرکاری اداروں کے خلاف بدعنوانی کی۷۰ہزار سے زائد شکایات موصول
اہم ترین

۲۰۲۵ میں سرکاری اداروں کے خلاف بدعنوانی کی۷۰ہزار سے زائد شکایات موصول

2026-09-03
۲۰۲۵ میں سرکاری اداروں کے خلاف بدعنوانی کی۷۰ہزار سے زائد شکایات موصول
اہم ترین

جموں کشمیر کے آر ٹی آئی پورٹل پر۱۹ ماہ میں ۶۵ہزار درخواستیں موصول

2026-09-03
سرینگر میں کالعدم تنظیموں سے وابستہ دہشت گرد معاونین کے گھروں پر چھاپے:پولیس
اہم ترین

کشتواڑ عصمت دری و موت کا معاملہ‘مرکزی ملزم کے گھر پر چھاپہ

2026-09-03
ہندوارہ:ریت کے ٹیلے میں دھنس جانے سے شہری کی موت‘ دوسرا زخمی
اہم ترین

اننت ناگ میں چٹان گاڑی پر گرنے سے سیاح جاں بحق

2026-09-03
جموں کشمیر پولیس میں انسپکٹر سطح پر بڑے پیمانے پر رد و بدل
اہم ترین

نمبر پلیٹ ماسکنگ کے خلاف پولیس  کی کارروائی‘۱۵۰  زائد گاڑیاں ضبط

2026-09-03
نوجوان کی پولیس تھانے میں موت‘عدالت کی پولیس اہلکار کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت
اہم ترین

جعلی ٹیچر کی تقرری کے معاملےمیں پانچ افراد کے  خلاف چارج شیٹ داخل

2026-09-03
ٹنگمرگ میں اینٹی کرپشن بیورو نے کلرک کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا
اہم ترین

رشوت لیتے جونیئر اسسٹنٹ رنگے ہاتھوں گرفتار:اے سی بی

2026-09-03
Next Post
امتیازی سلوک ؟’بی جے پی کو سہولت، این سی کو کچلا گیا‘

این سی اور بھاجپا کا ایک دوسرےکیخلاف احتجاج

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.