نئی دہلی، 18 جولائی (یو این آئی) لارڈز میں اپنے پہلے ٹیسٹ میچ کی شاندار سنچری کے بعد ہندوستانی خاتون کرکٹر یاشتیکا بھاٹیا نے کہا ہے کہ طویل عرصے تک انجری کے باعث میدان سے دور رہنے کے تجربے نے انہیں صرف قومی ٹیم میں واپسی کا موقع ہی نہیں دیا بلکہ ہر مشکل سے پہلے سے زیادہ مضبوط انداز میں واپس آنے کا حوصلہ بھی بخشا۔
گھٹنے کی اے سی ایل انجری کے باعث یاشتیکا تقریباً 18 ماہ تک کرکٹ سے دور رہیں۔ اس دوران وہ 2025 کے ہوم ون ڈے ورلڈ کپ اور رواں سال کی ویمنز پریمیئر لیگ (ڈبلیو پی ایل) میں شرکت نہ کر سکیں۔ انہوں نے مئی میں انگلینڈ کے خلاف ٹی-20 بین الاقوامی سیریز کے ذریعے قومی ٹیم میں واپسی کی۔
یاشتیکا نے کہا، "ری ہیبلیٹیشن کے دوران میں نے سب سے زیادہ صبر اور ثابت قدمی سیکھی۔ اگر فوری نتائج نظر نہ آئیں تب بھی عمل پر یقین رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ خود پر اعتماد ہونا چاہیے کہ آپ دوبارہ کامیابی سے واپسی کریں گے۔”
انہوں نے کہا کہ اس مشکل دور میں انہیں اپنے اہل خانہ، کوچز، ٹرینرز اور سینٹر آف ایکسی لینس (سی او ای) کے فزیوتھراپسٹس کی بھرپور حمایت حاصل رہی، جس نے ان کا اعتماد مزید مضبوط کیا۔
ان کا کہنا تھا، "اس سفر کے بعد مجھے اپنے اوپر پہلے سے زیادہ یقین ہو گیا ہے۔ آئندہ زندگی میں جو بھی مشکلات یا چیلنجز آئیں گے، میں انہیں مزید مضبوط واپسی کا ذریعہ بناؤں گی۔”
واپسی کے بعد بھی ان کے لیے حالات آسان نہیں تھے۔ انگلینڈ کے خلاف ٹی-20 سیریز میں انہوں نے تینوں میچوں میں تیسرے نمبر پر بلے بازی کرتے ہوئے ایک نصف سنچری بنائی، لیکن ٹی-20 ورلڈ کپ میں تین اننگز میں صرف 41 رنز بنا سکیں اور مختلف بیٹنگ پوزیشنز پر آزمائے جانے کے بعد ایشیائی کھیلوں کی ٹیم میں بھی جگہ نہ بنا سکیں۔
یاشتیکا نے اس مرحلے کو بھی صبر کا امتحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم انتظامیہ، کپتان ہرمن پریت کور اور ہیڈ کوچ امول مزمدار نے مسلسل ان سے رابطہ رکھا اور ان پر اعتماد کا اظہار کیا، جس سے انہیں حوصلہ ملا۔
انہوں نے کہا، "اس اہم مرحلے میں ہندوستانی ٹیم نے میری بھرپور حمایت کی۔ امول سر اور ہرمن نے مجھ سے کھل کر بات کی اور میرا حوصلہ بڑھایا۔ ٹیسٹ میچ میں موقع ملا تو میں سنچری بنانے میں کامیاب رہی، جس سے میرا اعتماد بھی بڑھا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر میں اچھی کارکردگی دکھاؤں گی تو مجھے مسلسل مواقع ملتے رہیں گے۔”





